Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ مت کیجیے یقیں صاحبعشق میں فرصتیں نہیں صاحبNadeem Najid
  2. جو سن سکو تو سنو تم فغاں چراغوں کیلویں چرا لی گئی ہیں یہاں چراغوں کیNadeem Najid
  3. چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیںبہ فیض عشق سمجھدار ہو گئیں آنکھیںNadeem Najid
  4. حسن جانان معتبر اس کولگ نہ جائے کہیں نظر اس کوNadeem Najid
  5. دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغدیکھنا چاہتے ہیں ہم تری راتوں کے چراغNadeem Najid
  6. صرف سایہ ہی نہیں پاؤں میں رکھا ہوا ہےایک سورج بھی مری چھاؤں میں رکھا ہوا ہےNadeem Najid
  7. نئی محبت کی داستانیں رقم کریں گے تو ہم کریں گےدلوں میں بڑھتی ہوئی خلیجوں کو کم کریں گے تو ہم کریں گےNadeem Najid
  8. یقیں کیونکر نہ کرتے ہودرون دل دھڑکتے ہوNadeem Najid
  9. یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میںگفتگو بہت کی ہے آپ سے خیالوں میںNadeem Najid
  10. آپ کی ناف سے جڑ پاؤںتو خود کو بھی دکھوںNadeem Najid
  11. آپ کی یاد تہجد میں بتاتی ہے مجھےآپ کے ساتھ تعلق میں ہے درویش کی لوNadeem Najid
  12. اکیلے اور فرصت میںکبھی سب چھوڑ جائیں توNadeem Najid
  13. جس ایک چاکلیٹ کا وعدہ ہے میرے ساتھسچ جانیے تو اس کی تمنا میں یہ زباںNadeem Najid
  14. ریحان عشق کے پہلو میں کچھ لویں رکھ کرتم عین عشق کی تمثال میں مجھے ڈھالوNadeem Najid
  15. عشق تیرے لحافوں میں لپٹا ہواآئنے کے تقدس میں سمٹا ہواNadeem Najid
  16. ہم اپنے اپنے بدن کی حدوں میں گم رہ کربہت حسین بہت ہی مہین جذبوں کوNadeem Najid
  17. ان دنوں اوج ثریا سے اک آنکھطشت میں پھول چراغ اور کچھ آیات کا نورNadeem Najid
  18. ایک آواز کی لو مجھ میں جلاتی ہے چراغاور چراغوں کے قریں وجد میں سانسوں کی دھمالNadeem Najid
  19. جو فقط ناف پیالے کے تصور میں ہوں گمکس طرح ناف سے جڑنے کا تقدس جانیںNadeem Najid
  20. قرینوں میںحسیں قدرت کے یہ پہلا قرینہ ہےNadeem Najid
  21. اجازت چاہیے ہم کو تمہارے خال و خد اوڑھیںتمہارے حسن کے برگد کے سائےNadeem Najid
  22. اک نئی جنگ کا آغاز کریںخوب لڑیںNadeem Najid
  23. ترے تکیے پہ سر رکھےتری ہی زلف کی خوشبوNadeem Najid
  24. تقاضا گو ہےکہ ہم اس کے ہاتھ کو تھامیںNadeem Najid
  25. ڈایری کا وہ صفحہکہ جس پہ اتاری گئی نظم میریNadeem Najid
  26. کبھی محبت پہ نظم ہو تومجھے بھی لکھناNadeem Najid
  27. یہ کائنات کے تلووں کو چاٹتا ہوا دنطلوع صبح سے لے کر دیار عصر تلکNadeem Najid