Poetry
- آپ مت کیجیے یقیں صاحبعشق میں فرصتیں نہیں صاحبNadeem Najid
- جو سن سکو تو سنو تم فغاں چراغوں کیلویں چرا لی گئی ہیں یہاں چراغوں کیNadeem Najid
- چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیںبہ فیض عشق سمجھدار ہو گئیں آنکھیںNadeem Najid
- حسن جانان معتبر اس کولگ نہ جائے کہیں نظر اس کوNadeem Najid
- دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغدیکھنا چاہتے ہیں ہم تری راتوں کے چراغNadeem Najid
- صرف سایہ ہی نہیں پاؤں میں رکھا ہوا ہےایک سورج بھی مری چھاؤں میں رکھا ہوا ہےNadeem Najid
- نئی محبت کی داستانیں رقم کریں گے تو ہم کریں گےدلوں میں بڑھتی ہوئی خلیجوں کو کم کریں گے تو ہم کریں گےNadeem Najid
- یقیں کیونکر نہ کرتے ہودرون دل دھڑکتے ہوNadeem Najid
- یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میںگفتگو بہت کی ہے آپ سے خیالوں میںNadeem Najid
- آپ کی ناف سے جڑ پاؤںتو خود کو بھی دکھوںNadeem Najid
- آپ کی یاد تہجد میں بتاتی ہے مجھےآپ کے ساتھ تعلق میں ہے درویش کی لوNadeem Najid
- اکیلے اور فرصت میںکبھی سب چھوڑ جائیں توNadeem Najid
- جس ایک چاکلیٹ کا وعدہ ہے میرے ساتھسچ جانیے تو اس کی تمنا میں یہ زباںNadeem Najid
- ریحان عشق کے پہلو میں کچھ لویں رکھ کرتم عین عشق کی تمثال میں مجھے ڈھالوNadeem Najid
- عشق تیرے لحافوں میں لپٹا ہواآئنے کے تقدس میں سمٹا ہواNadeem Najid
- ہم اپنے اپنے بدن کی حدوں میں گم رہ کربہت حسین بہت ہی مہین جذبوں کوNadeem Najid
- ان دنوں اوج ثریا سے اک آنکھطشت میں پھول چراغ اور کچھ آیات کا نورNadeem Najid
- ایک آواز کی لو مجھ میں جلاتی ہے چراغاور چراغوں کے قریں وجد میں سانسوں کی دھمالNadeem Najid
- جو فقط ناف پیالے کے تصور میں ہوں گمکس طرح ناف سے جڑنے کا تقدس جانیںNadeem Najid
- قرینوں میںحسیں قدرت کے یہ پہلا قرینہ ہےNadeem Najid
- اجازت چاہیے ہم کو تمہارے خال و خد اوڑھیںتمہارے حسن کے برگد کے سائےNadeem Najid
- اک نئی جنگ کا آغاز کریںخوب لڑیںNadeem Najid
- ترے تکیے پہ سر رکھےتری ہی زلف کی خوشبوNadeem Najid
- تقاضا گو ہےکہ ہم اس کے ہاتھ کو تھامیںNadeem Najid
- ڈایری کا وہ صفحہکہ جس پہ اتاری گئی نظم میریNadeem Najid
- کبھی محبت پہ نظم ہو تومجھے بھی لکھناNadeem Najid
- یہ کائنات کے تلووں کو چاٹتا ہوا دنطلوع صبح سے لے کر دیار عصر تلکNadeem Najid