Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخمآپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کوMohsin Naqvi (1947–1996)
  2. اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھااپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھاMohsin Naqvi (1947–1996)
  3. اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسادل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیساMohsin Naqvi (1947–1996)
  4. اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیںکیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیںMohsin Naqvi (1947–1996)
  5. اتنی مدت بعد ملے ہوکن سوچوں میں گم پھرتے ہوMohsin Naqvi (1947–1996)
  6. اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شامنہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شامMohsin Naqvi (1947–1996)
  7. اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرحالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کرMohsin Naqvi (1947–1996)
  8. اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتاابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتاMohsin Naqvi (1947–1996)
  9. اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوںمگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوںMohsin Naqvi (1947–1996)
  10. ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیاوہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیاMohsin Naqvi (1947–1996)
  11. بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرناہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرناMohsin Naqvi (1947–1996)
  12. بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گااداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گاMohsin Naqvi (1947–1996)
  13. بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیںصحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیںMohsin Naqvi (1947–1996)
  14. پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹامجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹاMohsin Naqvi (1947–1996)
  15. ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہےمثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہےMohsin Naqvi (1947–1996)
  16. جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوااپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہواMohsin Naqvi (1947–1996)
  17. جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوامری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہواMohsin Naqvi (1947–1996)
  18. جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیاوہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیاMohsin Naqvi (1947–1996)
  19. خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلامری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلاMohsin Naqvi (1947–1996)
  20. خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گیابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گیMohsin Naqvi (1947–1996)
  21. ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھیمیری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھیMohsin Naqvi (1947–1996)
  22. زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوںمیں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوںMohsin Naqvi (1947–1996)
  23. زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہےبعض اوقات مری روح غضب کرتی ہےMohsin Naqvi (1947–1996)
  24. سارے لہجے ترے بے زماں ایک میںاس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میںMohsin Naqvi (1947–1996)
  25. سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کرزندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کرMohsin Naqvi (1947–1996)
  26. عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پرلہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پرMohsin Naqvi (1947–1996)
  27. عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کےمیں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کےMohsin Naqvi (1947–1996)
  28. غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن توہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن توMohsin Naqvi (1947–1996)
  29. فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گابدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گاMohsin Naqvi (1947–1996)
  30. قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچاب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچMohsin Naqvi (1947–1996)
  31. کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلابھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلاMohsin Naqvi (1947–1996)
  32. کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پراک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پرMohsin Naqvi (1947–1996)
  33. لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھیمیں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھیMohsin Naqvi (1947–1996)
  34. معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگاتیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگاMohsin Naqvi (1947–1996)
  35. میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھاوہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھاMohsin Naqvi (1947–1996)
  36. میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گامروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گاMohsin Naqvi (1947–1996)
  37. میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھیمجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھیMohsin Naqvi (1947–1996)
  38. نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروںتو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروںMohsin Naqvi (1947–1996)
  39. وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلےوہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلےMohsin Naqvi (1947–1996)
  40. ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیںتجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیںMohsin Naqvi (1947–1996)
  41. ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھاسب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھاMohsin Naqvi (1947–1996)
  42. ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہواکہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہواMohsin Naqvi (1947–1996)
  43. یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگیاس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگیMohsin Naqvi (1947–1996)
  44. یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والےڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والےMohsin Naqvi (1947–1996)