Poetry
- آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخمآپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کوMohsin Naqvi (1947–1996)
- اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھااپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھاMohsin Naqvi (1947–1996)
- اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسادل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیساMohsin Naqvi (1947–1996)
- اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیںکیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیںMohsin Naqvi (1947–1996)
- اتنی مدت بعد ملے ہوکن سوچوں میں گم پھرتے ہوMohsin Naqvi (1947–1996)
- اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شامنہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شامMohsin Naqvi (1947–1996)
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرحالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کرMohsin Naqvi (1947–1996)
- اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتاابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتاMohsin Naqvi (1947–1996)
- اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوںمگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوںMohsin Naqvi (1947–1996)
- ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیاوہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیاMohsin Naqvi (1947–1996)
- بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرناہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرناMohsin Naqvi (1947–1996)
- بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گااداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گاMohsin Naqvi (1947–1996)
- بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیںصحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیںMohsin Naqvi (1947–1996)
- پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹامجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹاMohsin Naqvi (1947–1996)
- ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہےمثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہےMohsin Naqvi (1947–1996)
- جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوااپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہواMohsin Naqvi (1947–1996)
- جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوامری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہواMohsin Naqvi (1947–1996)
- جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیاوہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیاMohsin Naqvi (1947–1996)
- خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلامری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلاMohsin Naqvi (1947–1996)
- خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گیابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گیMohsin Naqvi (1947–1996)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھیمیری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھیMohsin Naqvi (1947–1996)
- زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوںمیں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوںMohsin Naqvi (1947–1996)
- زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہےبعض اوقات مری روح غضب کرتی ہےMohsin Naqvi (1947–1996)
- سارے لہجے ترے بے زماں ایک میںاس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میںMohsin Naqvi (1947–1996)
- سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کرزندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کرMohsin Naqvi (1947–1996)
- عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پرلہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پرMohsin Naqvi (1947–1996)
- عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کےمیں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کےMohsin Naqvi (1947–1996)
- غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن توہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن توMohsin Naqvi (1947–1996)
- فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گابدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گاMohsin Naqvi (1947–1996)
- قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچاب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچMohsin Naqvi (1947–1996)
- کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلابھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلاMohsin Naqvi (1947–1996)
- کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پراک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پرMohsin Naqvi (1947–1996)
- لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھیمیں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھیMohsin Naqvi (1947–1996)
- معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگاتیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگاMohsin Naqvi (1947–1996)
- میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھاوہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھاMohsin Naqvi (1947–1996)
- میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گامروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گاMohsin Naqvi (1947–1996)
- میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھیمجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھیMohsin Naqvi (1947–1996)
- نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروںتو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروںMohsin Naqvi (1947–1996)
- وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلےوہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلےMohsin Naqvi (1947–1996)
- ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیںتجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیںMohsin Naqvi (1947–1996)
- ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھاسب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھاMohsin Naqvi (1947–1996)
- ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہواکہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہواMohsin Naqvi (1947–1996)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگیاس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگیMohsin Naqvi (1947–1996)
- یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والےڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والےMohsin Naqvi (1947–1996)