Poetry
- اس کی دیوار کا جو روزن ہےخور کا چشم و چراغ روشن ہےکشن کمار وقار
- الفت شیریں کو بھاری سل سمجھسہل کو اے کوہ کن مشکل سمجھکشن کمار وقار
- باغ الفت میں گل جو خود رو ہےخون بلبل کا رنگ ہے بو ہےکشن کمار وقار
- پامال خرام ناز کیجےٹھکرائیے سرفراز کیجےکشن کمار وقار
- تری اے شاہ خوباں ہو بلا چٹوہ بوسہ دے کہ ہو جس کی صدا چٹکشن کمار وقار
- جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دناس کو دنیا سے اٹھایا ایک دنکشن کمار وقار
- چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریںغنچۂ گل کی طرح کا ہے کو زر جمع کریںکشن کمار وقار
- چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیںان کو روزن سے جھانکے ہم بھی ہیںکشن کمار وقار
- حسن صورت میں گرچہ بود نہیںپر کہاں عشق کی نمود نہیںکشن کمار وقار
- خط کی رخسار پر سیاہی ہےچشم خوابیدہ خوش نگاہی ہےکشن کمار وقار
- دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایاکہ جو چوٹ پر صید آیا بٹھایاکشن کمار وقار
- دوستو حال دل زار ذرا اس سے کہوکم نہ ہو اس میں ذرا بلکہ سوا اس سے کہوکشن کمار وقار
- دیکھ کر مے منہ میں پانی شیخ کے بھر آئے گاچیز اچھی دیکھے گا مفلس کا جی للچائے گاکشن کمار وقار
- رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دناک شعلہ برق زن ہے سر طور رات دنکشن کمار وقار
- سوز پروانہ نور دین شمعتار زنار دل نشین شمعکشن کمار وقار
- سوز سے ساز کیا چاہئے ابنے سے آواز کیا چاہئے ابکشن کمار وقار
- عارض سے ترے بہار مقصودہے خط سے بنقشہ زار مقصودکشن کمار وقار
- عاشق گیسو دوتا ہوں میںآپ اپنے لیے بلا ہوں میںکشن کمار وقار
- عاشقی میں ہے جان کا کھٹکااور بھی کچھ برا بھلا کھٹکاکشن کمار وقار
- عشق ہے اس زلف کا سرتاج آجہے رسول حسن کی معراج آجکشن کمار وقار
- قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئےاپنے کو اپنے ہاتھ سے رسوا نہ کیجئےکشن کمار وقار
- قیس وہ ناتوان صحرا ہےکالبد نیستان صحرا ہےکشن کمار وقار
- کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑکبھی اے آہ دل منہ سے نکل پڑکشن کمار وقار
- کبھی بالوں کو سلجھایا تو ہوتامجھے شانے سے الجھایا تو ہوتاکشن کمار وقار
- کعبہ کو جائیں کس لیے اور کیوں کنشت کوپہونچیں یہیں سے بندگیاں سنگ و خشت کوکشن کمار وقار
- گاہ بسمل ہوں گہے تکبیر ہوںاپنی میں تدبیر کا تقدیر ہوںکشن کمار وقار
- گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئےدوست کا دل میں ہمارے تیر رہنے دیجئےکشن کمار وقار
- مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوںآج ایمان اپنا کھوتا ہوںکشن کمار وقار
- مرغ جاں کو زلف پیچاں جال ہےجال کیا اے جان جاں جنجال ہےکشن کمار وقار
- میں پا شکستہ کہاں طفل نے سوار کہاںپھر اس کی گرد کہاں اور مرا غبار کہاںکشن کمار وقار
- وہ بت بول اٹھے کسی بات میںخدا سے یہ مانگا مناجات میںکشن کمار وقار
- وہ مژہ مارتی کٹاری ہےچشم بددور زخم کاری ہےکشن کمار وقار
- ہو عید یا محرم ہم غم کیا کریں گےدو روزہ دہر دوں میں ماتم کیا کریں گےکشن کمار وقار
- ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتاارمان تڑپتے ہیں کہ قاتل نہیں ملتاکشن کمار وقار
- خود غلط وہ قول و فعل ان کا غلطخط غلط انشا غلط املا غلطکشن کمار وقار
- شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچاکہ قد یار کا مضمون ہے باندھا اونچاکشن کمار وقار
- کل کہاں بچاری بلبل اور کہاں بچارا گلآج بلبل دید کر لے باغ کی نظارہ گلکشن کمار وقار