Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج ان کا مزاج برہم ہےیا مقدر میں ایک نیا خم ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  2. ابھی حسن خود سے ہے بے خبر ابھی عشق بھی ہے نہاں نہاںنہ ہیں قصے راز و نیاز کے نہ فسانے دل کے زباں زباںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  3. اپنے حال دل پہ خود ہی مسکرا سکتا ہوں میںکب کسی کے رحم کا احساں اٹھا سکتا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  4. اس شوخ کے لطیف اشاروں کو دیکھیےبکھرے ہوئے حسین نظاروں کو دیکھیےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  5. اشک غم آنکھوں سے کتنے بہہ گئےجو نہ کہنا تھا اسے ہم کہہ گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  6. آ گئے وہ مرے خیالوں میںگھنٹیاں بج اٹھیں شوالوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  7. الفت کے فسانے ماضی کے کچھ بھولے کچھ یاد آ بھی گئےغم کے بادل دل پہ مرے کچھ چھٹ بھی گئے کچھ چھا بھی گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  8. امید دید کام آئے نہ آئےسحر آئی ہے شام آئے نہ آئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  9. بے تعلق زندگی بھی زندگی ہوتی ہے کیاساز دل خاموش ہو تو نغمگی ہوتی ہے کیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  10. پاس میں روح وفا ہو جیسےدل مرا جلتا دیا ہو جیسےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  11. پیار ان کو دیکھ کر بے اختیار آ ہی گیاوہ جو آئے دل مرا دیوانہ وار آ ہی گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  12. تجھ کو چاہوں مری مجال کہاںبس میں لیکن مرا خیال کہاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  13. تجھے اپنی فضاؤں پر پشیماں کون دیکھے گاترا غم سہ کے بھی تجھ کو پریشاں کون دیکھے گاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  14. تمہاری آرزو تم سے کہیں بڑھ کر حسیں نکلیکہ دنیا کی ہر اک شے سے یہی دل کے قریں نکلیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  15. تنہائیوں میں کیا کہوں کیا یاد آ گیاافسانہ ایک بھولا ہوا یاد آ گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  16. تیرے لطف و کرم سے جو دامن میں میرے آیا ہےسینے سے وہ پھول لگایا خار وہ میں نے چوما ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  17. جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئےوہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  18. چشم دل پر کیف ہے چھایا ہواہے تصور میں کوئی آیا ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  19. چمن چمن سے گلوں کا یہی پیام آیاوہی حسیں ہے جو دنیا میں شاد کام آیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  20. حدیث دلبراں ہے اور میں ہوںجہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  21. حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرحکوئی سراب جہاں میں نہیں خوشی کی طرحJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  22. خامشی اجتناب سے پہلےاک ستم آفتاب سے پہلےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  23. درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائےزندگی بے مزہ نہ ہو جائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  24. درد منت کش درماں ہو ضروری تو نہیںزخم مرہم کا ہی خواہاں ہو ضروری تو نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  25. درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہےہائے کیسا وہ وفاؤں کا صلہ دیتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  26. دل کو جو اپنے بس میں نہ پاؤں تو کیا کروںآنکھیں نہ رہ گزر میں بچھاؤں تو کیا کروںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  27. دل کی کشتی تیرے حوالےتیرے سوا اب کون سنبھالےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  28. دل میں غم کی کنی نہیں ہوتیزندگی زندگی نہیں ہوتیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  29. دنیا سے بے نیاز غزل کہہ رہا ہوں میںقلب و جگر نواز غزل کہہ رہا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  30. سایہ قدم قدم پہ ہے ہر روشنی کے ساتھصبحیں چھپی ہیں پردے میں ہر تیرگی کے ساتھJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  31. شکوہ نہیں گلہ نہیں ربط کوئی بہم نہیںرسم سلام کیا جہاں پرسش حال غم نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  32. عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتےخاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  33. فلک سے ہوئے ہیں یہ پیہم اشارےزمیں سے نہیں دور یہ چاند تارےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  34. کبھی طویل کبھی مختصر بھی ہوتی ہےہر ایک رات کی لیکن سحر بھی ہوتی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  35. کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہےوفا آزمانے کو جی چاہتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  36. کون سی جا ہے جہاں حسن کا شہرا نہ ہواعشق بیچارہ کہاں دہر میں رسوا نہ ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  37. کہہ چکے حال راز باقی ہےناز اٹھائے نیاز باقی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  38. گلشن میں ترے حسن کی جب بات چلی ہےٹھہری ہے نظر گل پہ نہ غنچے پہ رکی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  39. محبت ہی اگر تجھ کو نہ راس آئی تو کیا ہوگاترے غم میں طبیعت میری گھبرائی تو کیا ہوگاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  40. مرے دل میں گردش وقت کے کئی دور ایسے گزر گئےکہ جو ابھرے نقش تھے مٹ گئے جو مٹے نشاں تھے ابھر گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  41. نظریں جھکی سوال پہ میرے جواب میںکیا کیا نہ کہہ گئی ہے نگاہیں حجاب میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  42. نگاہ مختصر سے داستاں تک بات جا پہنچیخدا جانے کہاں سے اب کہاں تک بات جا پہنچیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  43. نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی دل ربا نہیں ہےمیں کیسے سمجھوں بہار آئی کہ غنچہ دل کا کھلا نہیں ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  44. وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہےجو تجھے بنا دے غم آشنا مجھے اس اثر کی تلاش ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  45. ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہامیں رہ گزر پہ زیست کی تنہا کھڑا رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  46. یاد ایام رفتہ یوں آئےدھندلے دھندلے سے جیسے کچھ سائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  47. یوں تصور میں کھلے گل ہیں تیری بات کے بعدجیسے گلشن میں نکھر جائے فضا رات کے بعدJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  48. ابر یوں چھا رہا ہے آبو پرجیسے پہرا ہو دھندلی شاموں پرJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  49. ایک رخساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  50. بندھ گیا ہے چاندنی سے کیا سہانہ سا سماںنربدا ہے یا ہے رنگ و روپ کا دریا رواںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)