Poetry
- آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواںاٹھتا تو ہے گھٹا سا برستا نہیں دھواںGulzar (b. 1934)
- اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پرسیلی سی خاموشی میں آواز سنی فرمائش پرGulzar (b. 1934)
- ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتامیری تصویر بھی گرتی تو چھناکا ہوتاGulzar (b. 1934)
- ایک پرواز دکھائی دی ہےتیری آواز سنائی دی ہےGulzar (b. 1934)
- بیتے رشتے تلاش کرتی ہےخوشبو غنچے تلاش کرتی ہےGulzar (b. 1934)
- بے سبب مسکرا رہا ہے چاندکوئی سازش چھپا رہا ہے چاندGulzar (b. 1934)
- پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کیاک طائر کا دل رکھنے کی کوشش کیGulzar (b. 1934)
- پھولوں کی طرح لب کھول کبھیخوشبو کی زباں میں بول کبھیGulzar (b. 1934)
- پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیںشام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیںGulzar (b. 1934)
- تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئےکچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئےGulzar (b. 1934)
- تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کیکیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کیGulzar (b. 1934)
- جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئےلوگ کچھ ڈوبتے نظر آئےGulzar (b. 1934)
- جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہےجانے کون آس پاس ہوتا ہےGulzar (b. 1934)
- خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میںایک پرانا خط کھولا انجانے میںGulzar (b. 1934)
- درد ہلکا ہے سانس بھاری ہےجئے جانے کی رسم جاری ہےGulzar (b. 1934)
- دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئیمگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئیGulzar (b. 1934)
- دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئیجیسے احساں اتارتا ہے کوئیGulzar (b. 1934)
- ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیںشمع جلتی ہے تو لازم ہے شعاعیں نکلیںGulzar (b. 1934)
- ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کاایک دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کاGulzar (b. 1934)
- رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلےقرار دے کے ترے در سے بے قرار چلےGulzar (b. 1934)
- زندگی یوں ہوئی بسر تنہاقافلہ ساتھ اور سفر تنہاGulzar (b. 1934)
- سہما سہما ڈرا سا رہتا ہےجانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہےGulzar (b. 1934)
- شام سے آج سانس بھاری ہےبے قراری سی بے قراری ہےGulzar (b. 1934)
- شام سے آنکھ میں نمی سی ہےآج پھر آپ کی کمی سی ہےGulzar (b. 1934)
- صبر ہر بار اختیار کیاہم سے ہوتا نہیں ہزار کیاGulzar (b. 1934)
- کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھیتینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھیGulzar (b. 1934)
- کوئی اٹکا ہوا ہے پل شایدوقت میں پڑ گیا ہے بل شایدGulzar (b. 1934)
- کوئی خاموش زخم لگتی ہےزندگی ایک نظم لگتی ہےGulzar (b. 1934)
- کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھےکہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دکھےGulzar (b. 1934)
- کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیںہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیںGulzar (b. 1934)
- گرم لاشیں گریں فصیلوں سےآسماں بھر گیا ہے چیلوں سےGulzar (b. 1934)
- گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیںگلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیںGulzar (b. 1934)
- مجھے اندھیرے میں بے شک بٹھا دیا ہوتامگر چراغ کی صورت جلا دیا ہوتاGulzar (b. 1934)
- وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھاہواؤں کا رخ دکھا رہا تھاGulzar (b. 1934)
- ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتےوقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتےGulzar (b. 1934)
- ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک برس جیےدو دن کی زندگی میں ہزاروں برس جیےGulzar (b. 1934)
- ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتےآپ ہیں اس لیے نہیں کہتےGulzar (b. 1934)
- ہوا کے سینگ نہ پکڑو کھدیڑ دیتی ہےزمیں سے پیڑوں کے ٹانکے ادھیڑ دیتی ہےGulzar (b. 1934)
- آدمی بلبلہ ہے پانی کااور پانی کی بہتی سطح پرGulzar (b. 1934)
- اپنی مرضی سے تو مذہب بھی نہیں اس نے چنا تھااس کا مذہب تھا جو ماں باپ سے ہی اس نے وراثت میں لیا تھاGulzar (b. 1934)
- ایک پشیمانی رہتی ہےالجھن اور گرانی بھیGulzar (b. 1934)
- ایک ہی خواب کئی بار یوں ہی دیکھا میں نےتو نے ساڑی میں اڑس لی ہیں مری چابیاں گھر کیGulzar (b. 1934)
- برف پگھلے گی جب پہاڑوں سےاور وادی سے کہرا سمٹے گاGulzar (b. 1934)
- پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے!کالے گھر میں سورج رکھ کےGulzar (b. 1934)
- پومپیئے دفن تھا صدیوں سے جہاںایک تہذیب تھی پوشیدہ وہاںGulzar (b. 1934)
- تمہارے ہونٹوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی تلاوتیںجھک کے میری آنکھوں کو چھو رہی ہیںGulzar (b. 1934)
- جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروںکھینچ کر دوسری جانب سے نکالوں اس کوGulzar (b. 1934)
- چار تنکے اٹھا کے جنگل سےایک بالی اناج کی لے کرGulzar (b. 1934)
- چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھااس کے چھپتے ہی اندھیروں کے نکل آئے تھے ناخنGulzar (b. 1934)
- دل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غمجیسے جنگل میں شام کے سائےGulzar (b. 1934)