Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھرFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  2. آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیاجیسے خوشبوئے زلف بہار آ گئی جیسے پیغام دیدار یار آ گیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  3. آئے کچھ ابر کچھ شراب آئےاس کے بعد آئے جو عذاب آئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  4. اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریںدل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  5. اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئےجو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  6. اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہےجو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  7. بات بس سے نکل چلی ہےدل کی حالت سنبھل چلی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  8. پھر آئینۂ عالم شاید کہ نکھر جائےپھر اپنی نظر شاید تا حد نظر جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  9. پھر حریف بہار ہو بیٹھےجانے کس کس کو آج رو بیٹھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  10. پھر لوٹا ہے خورشید جہاں تاب سفر سےپھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  11. تجھے پکارا ہے بے ارادہجو دل دکھا ہے بہت زیادہFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  12. تری امید ترا انتظار جب سے ہےنہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  13. ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئےتری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  14. تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  15. تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیںکسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  16. تیری صورت جو دل نشیں کی ہےآشنا شکل ہر حسیں کی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  17. جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیںسجے گی کیسے شب نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  18. جیسے ہم بزم ہیں پھر یار طرح دار سے ہمرات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  19. چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کارنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  20. چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرووصل کی راحت میں فرقت کا سماں لکھا کروFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  21. چشم میگوں ذرا ادھر کر دےدست قدرت کو بے اثر کر دےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  22. حسرت دید میں گزراں ہیں زمانے کب سےدشت امید میں گرداں ہیں دوانے کب سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  23. حسن مرہون جوش بادۂ نازعشق منت کش فسون نیازFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  24. حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہےسر پر ہیں خداوند سر عرش خدا ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  25. دربار میں اب سطوت شاہی کی علامتدرباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  26. دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںجیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  27. دونوں جہان تیری محبت میں ہار کےوہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  28. راز الفت چھپا کے دیکھ لیادل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  29. رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نامموسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نامFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  30. رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہےشب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  31. سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیںہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  32. سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیںکبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  33. ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتاصنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  34. ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی تری انجمن سے پہلےسزا خطائے نظر سے پہلے عتاب جرم سخن سے پہلےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  35. سہل یوں راہ زندگی کی ہےہر قدم ہم نے عاشقی کی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  36. شاخ پر خون گل رواں ہے وہیشوخیٔ رنگ گلستاں ہے وہیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  37. شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئیدل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  38. شرح بے دردئ حالات نہ ہونے پائیاب کے بھی دل کی مدارات نہ ہونے پائیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  39. شرح فراق مدح لب مشکبو کریںغربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  40. شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارۂ شامشب فراق کے گیسو فضا میں لہرائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  41. شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کیشکر ہے زندگی تباہ نہ کیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  42. صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھیکیا خبر آج خراماں سر گلزار ہے کونFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  43. عجز اہل ستم کی بات کروعشق کے دم قدم کی بات کروFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  44. عشق منت کش قرار نہیںحسن مجبور انتظار نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  45. غم بہ دل شکر بہ لب مست و غزل خواں چلیےجب تلک ساتھ ترے عمر گریزاں چلیےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  46. فکر دل دارئ گلزار کروں یا نہ کروںذکر مرغان گرفتار کروں یا نہ کروںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  47. قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہمسب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  48. قند دہن کچھ اس سے زیادہلطف سخن کچھ اس سے زیادہFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  49. کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گےکب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  50. کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگیسنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)