تیری صورت جو دل نشیں کی ہے

Faiz Ahmad Faiz (1911–1984)

تیری صورت جو دل نشیں کی ہے

آشنا شکل ہر حسیں کی ہے

حسن سے دل لگا کے ہستی کی

ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے

صبح گل ہو کہ شام مے خانہ

مدح اس روئے نازنیں کی ہے

شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں

ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے

ذکر دوزخ بیان حور و قصور

بات گویا یہیں کہیں کی ہے

اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے

خوں سے تر آج آستیں کی ہے

کیسے مانیں حرم کے سہل پسند

رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے

فیضؔ اوج خیال سے ہم نے

آسماں سندھ کی زمیں کی ہے

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہے

نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا نہ نگاہ ہم پہ عدو کی ہے

صف زاہداں ہے تو بے یقیں صف مے کشاں ہے تو بے طلب

نہ وہ صبح ورد و وضو کی ہے نہ وہ شام جام و سبو کی ہے

نہ یہ غم نیا نہ ستم نیا کہ تری جفا کا گلا کریں

یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب یہ کسک تو دل میں کبھو کی ہے

کف باغباں پہ بہار گل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر

کہ ہر ایک پھول کے پیرہن میں نمود میرے لہو کی ہے

نہیں خوف روز سیہ ہمیں کہ ہے فیضؔ ظرف نگاہ میں

ابھی گوشہ گیر وہ اک کرن جو لگن اس آئینہ رو کی ہے