Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آگ ہی کاش لگ گئی ہوتیدو گھڑی کو تو روشنی ہوتیBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  2. ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاندہم کو لگتا ہے بادل میں چھپا ہوا ہے چاندBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  3. بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہمشام کے ہوتے ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ہمBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  4. جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گاکہیں لیکن کوئی چہرہ نہ دکھائی دے گاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  5. جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہےکوئی مقام ہو صحرا دکھائی دیتا ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  6. جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہےوہ شب پرستوں نے محفل میں تیرگی کی ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  7. روشنی ہی روشنی ہے شہر میںپھر بھی گویا تیرگی ہے شہر میںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  8. سورج بھی سر پہ ہو تو اسے سائباں کہیںاب دشت ہی کو آؤ ہم اپنا مکاں کہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  9. کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیںچلتے رہنے کے سوا دھیان اور کچھ تھا ہی نہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  10. کس لیے دشت میں گھر کوئی بنایا جائےپاس کیا ہے جو فصیلوں میں چھپایا جائےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  11. کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیںمیں راستے میں کسی موڑ پر رکا ہی نہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  12. مجھے مٹاتا رہا ہے یہ آسمان بہتمگر زمیں پہ ہیں اب بھی مرے نشان بہتBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  13. محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کاسچ پوچھیے تو درد ہے وہ کائنات کاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  14. میرے مکاں سے کاش یہ منظر دکھائی دےہریالیوں کے بیچ ترا گھر دکھائی دےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  15. میں جو دنیا کی کہانی میں نہ کھویا ہوتامیرے خامے نے مسلسل مجھے لکھا ہوتاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  16. ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میںجب سے جکڑا ہوں میں کمرے کے در و دیوار میںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  17. آدھی آدھی رات کو یہمرغا کیوں دیتا ہے اذانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  18. اپنی مرضی سے کھل نہیں سکتےاپنی مرضی سے ہل نہیں سکتےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  19. ایک اونٹ نے منت مانیاگر گیا میرا کوہانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  20. ایک ہیں نانی جان ہماریکیا بتلائیں کتنی پیاریBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  21. بنا سکتا ہوں میں بھی خوبصورت کشتیاںلیکنBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  22. جنگل میں جا کر کوے نےکوئل کا اک گیت چرایاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  23. چندا ماما تم کو مامانہیں کہوں گا نہیں کہوں گاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  24. چوہوں نے اک شہر بسایابے حد عالی شانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  25. سحر کے ساتھ وہ خاموش ہو چکا ہے مگرشراب نور مسلسل پلا رہا ٔہے مجھےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  26. کیا کہیں روز صبح ہوتے ہییہ مسافر کہاں سے آتے ہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  27. جھیل کے پانی میں لہریں اٹھ رہی ہیںایک پتا گر چکا ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  28. کیا بتلائیںکیسے کیسےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  29. بڑھ رہا تھاچلچلاتی دھوپ میں آگےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  30. تھوڑی سوکھی گھاسکھلاؤBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  31. چاروں اور خاموشیچاروں اور سناٹاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  32. چلو ہم اپنے گھر کی چھت پرلٹکا دیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  33. رکھ کے صندوق نیچے کھڑا ہو گیابیچ رستے میں وہBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  34. روپ سر سے پاؤں تک دھارے ہوئےبھگوان کاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  35. سمندروں سے گھرے ہوئے انگنت جزیرےالگ الگ ایک دوسرے سےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  36. نہ پھینکوطاق میں اس کو سنبھال کر رکھوBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  37. یہ شہر غم کے اندھیروں میں روشنی جیسایہ شہرBadiuzzaman Khawar (1938–1990)