Poetry
Poet
Meter
- زندگی مرگ کی مہلت ہی سہیبہر واماندہ اقامت ہی سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
- غیر شایان رسم و راہ نہیںکب وہ عاشق ہے جو تباہ نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- کس قدر دل ربا نما ہے دلخانۂ غیر ہو گیا ہے دلQalaq Meerathi (1835–1880)
- کوئی کیسا ہی ثابت ہو طبیعت آ ہی جاتی ہےخدا جانے یہ کیا آفت ہے آفت آ ہی جاتی ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- کہیے کیا اور فیصلے کی باتوصل ہے اک معاملے کی باتQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا آ کے جہاں میں کر گئے ہماک داغ جگر پہ دھر گئے ہمQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہےسوچ کچھ دل میں پوچھتا کیا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہوناجس قدر دیکھنا اتنا ہی پشیماں ہوناQalaq Meerathi (1835–1880)
- محبت وہ ہے جس میں کچھ کسی سے ہو نہیں سکتاجو ہو سکتا ہے وہ بھی آدمی سے ہو نہیں سکتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- نقش بر آب نام ہے سیل فنا مقاماس خانماں خراب کا کیا نام کیا مقامQalaq Meerathi (1835–1880)
- نہ پہنچے ہاتھ جس کا ضعف سے تا زیست دامن تکسراغ خوں اب اس کا مر کے جائے خاک گردن تکQalaq Meerathi (1835–1880)
- نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہاہو کے دشمن بھی آشنا نہ رہاQalaq Meerathi (1835–1880)
- نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہےفقط میں ہی میں ہوں تو پھر تو ہی تو ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہی وعدہ ہے وہی آرزو وہی اپنی عمر تمام ہےوہی چشم ہے وہی راہ ہے وہی صبح ہے وہی شام ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر عداوت کی ابتدا ہے عشقکہ محبت کی انتہا ہے عشقQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیںاے وہ سب کچھ ہی سہی عشق مگر کچھ بھی نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہو جدا اے چارہ گر ہے مجھ کو آزار فراقبے وصال اچھا ہوا بھی کوئی بیمار فراقQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہے خموشیٔ انتظار بلااست ہے ایک چپ ہزار بلاQalaq Meerathi (1835–1880)
- آلودہ خیالات میں تیرے ہوں مدامطاعت سے غرض نہ کچھ عبادت سے کامQalaq Meerathi (1835–1880)
- تھا آدم خاکی غضب بے زنہارپر موت کے ہاتھوں سے ہوا ہے ناچارQalaq Meerathi (1835–1880)
- جاہل کی ہے میراث قلقؔ تخت و تاجکامل ہے سدا بے ہنروں کا محتاجQalaq Meerathi (1835–1880)
- جو جا کے نہ آئے پھر جوانی ہے یہ شےپر حیف نصیب رائیگانی ہے یہ شےQalaq Meerathi (1835–1880)
- خود رفتہ ہو بدمست ہو کیسا ہے مزاجکل آپ کی کیا وضع تھی کیا رنگ ہے آجQalaq Meerathi (1835–1880)
- دامن سے گل تازہ مہکتے نکلےگلشن سے مرغ گل چہکتے نکلےQalaq Meerathi (1835–1880)
- دروازے پہ تیرے ہی مروں گا یا ربکیا بیم جہنم نہ ڈروں گا یا ربQalaq Meerathi (1835–1880)
- دنیا ہے عجب بو قلموں ضد آموزہر شکل موافق ہے مخالف اندوزQalaq Meerathi (1835–1880)
- ژولیدہ معما ہے جہان پر پیچاے دل نہ ستم اس کے کشائش میں کھینچQalaq Meerathi (1835–1880)
- کس طرح سے گریہ کو نہ ہو طغیانیہے کشتیٔ دریائے کرم طوفانیQalaq Meerathi (1835–1880)
- کہتا ہوں خدا لگتی عقیدے کے خلافہے تیرا خطاوار سزاوار معافQalaq Meerathi (1835–1880)
- مسجد کو دیا چھوڑ ریا کی خاطرکعبے نہیں جاتا تو حیا کی خاطرQalaq Meerathi (1835–1880)
- مسجد میں نہ جا واں نہیں ہونے کا نباہبے وجہ خصوصیت بھی ہے عصیاں کی گواہQalaq Meerathi (1835–1880)
- ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلاممردود ہوا کرتی ہے نظر اصنامQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر طرح سے ضائع ہے یہاں ہر اوقاتمافات تلافی ہے تلاف مافاتQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہے دوستیٔ آل عبا رونے سےہے درجۂ والاۓ ولا رونے سےQalaq Meerathi (1835–1880)
- یا رب تجھے فکر پائے بندی کیا ہےنا چار کی و نیاز مندی کیا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- یاں ہم کو دیا کیا جو وہاں پر ہو نگاہطاعت سے کچھ امید نہ کچھ خوف گناہQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس بزم سے میدان میں جانا ہوگاایواں سے بیابان میں جانا ہوگاQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیںیاراۓ نظر چشم تماشا میں نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس عہد میں احتساب ایمانی کیاابرام معاصی کی پشیمانی کیاQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیںہر بزم میں کہتے ہیں کہ ہم ایسے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- افسانۂ یار بہر وصلت ہے لذیذپیمانۂ مے پئے فراغت ہے لذیذQalaq Meerathi (1835–1880)
- افسوس تری وضع پہ آتا ہے قلقؔانداز ترا جی کو کڑھاتا ہے قلقؔQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے ابر کہاں تک ترے رستے دیکھیںاس طرح سے دنیا کو ترستے دیکھیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکالدر پردہ نہیں وصل سے کم تیرا خیالQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کونجی اپنا بھلا میرے لیے کھوئے کونQalaq Meerathi (1835–1880)
- بانو نے کہا قطرہ نہیں شیر کا ہےاور حال برا اصغر دلگیر کا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- بے برگ و نوا کی شعر خوانی معلومبے دانہ و دام نکتہ دانی معلومQalaq Meerathi (1835–1880)
- تا ماہ صیام ہوئے باب امیداور واسطۂ جشن ہو یہ یوم سعیدQalaq Meerathi (1835–1880)
- جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھینیند آنکھ میں آرام نہ پائے گی کبھیQalaq Meerathi (1835–1880)
- جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شےآگے پیچھے دھریں ہیں سب کے لاشےQalaq Meerathi (1835–1880)