تھا آدم خاکی غضب بے زنہار
Qalaq Meerathi (1835–1880)تھا آدم خاکی غضب بے زنہار
پر موت کے ہاتھوں سے ہوا ہے ناچار
سچ ہے قلقؔ انسان ہے کیا کچھ سرکش
مر کر بھی تو ہوتا ہے یہ کاندھوں پہ سوار
تھا آدم خاکی غضب بے زنہار
پر موت کے ہاتھوں سے ہوا ہے ناچار
سچ ہے قلقؔ انسان ہے کیا کچھ سرکش
مر کر بھی تو ہوتا ہے یہ کاندھوں پہ سوار