Poetry
- فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کیہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- فلک کرنے کے قابل آسماں ہےکہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کونکالا سر سے میرے جائے مو خار مغیلاں کوMir Taqi Mir (1723–1810)
- قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیادوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگےہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگےMir Taqi Mir (1723–1810)
- قصد گر امتحان ہے پیارےاب تلک نیم جان ہے پیارےMir Taqi Mir (1723–1810)
- قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والےگلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچMir Taqi Mir (1723–1810)
- کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گاجیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کب تلک جی رکے خفا ہووےآہ کریے کہ ٹک ہوا ہووےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کب تلک یہ ستم اٹھائیے گاایک دن یوں ہی جی سے جائیے گاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سےپردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوامیرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہواMir Taqi Mir (1723–1810)
- کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہےدن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کیدھوم ہے پھر بہار آنے کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئیشاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کاشاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریںفریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہےزمیں سخت ہے آسماں دور ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کیاس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد ساسو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد ساMir Taqi Mir (1723–1810)
- کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سےآئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئیدو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کل چمن میں گل و سمن دیکھاآج دیکھا تو باغ بن دیکھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھاشام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یکجا نہ تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابیآخر کو گرو رکھا سجادۂ محرابیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہےسنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کوفت سے جان لب پہ آئی ہےہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سےکیا کیا نہ ابر آ کر یاں زور زور برسےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوےالٰہی اس بلائے ناگہاں پر بھی بلا آوےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہتے ہو اتحاد ہے ہم کوہاں کہو اعتماد ہے ہم کوMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیںہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہےزاہد جو صفت تجھ میں ہے سوزن جلبی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تککہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تکMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میںالٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاںتم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہمگل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہمMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشقحق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشقMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھارو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنایا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشناMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کروں شرح خستہ جانی کیمیں نے مر مر کے زندگانی کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشقجان کا روگ ہے بلا ہے عشقMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیاقافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیںچھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیں اپنی اس کی شب کی باتکہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی باتMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھاان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہشیک جان و صد تمنا، یک دل ہزار خواہشMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئےچپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیاکبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیاMir Taqi Mir (1723–1810)