مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اور

قاسم علی خان آفریدی

مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اور

تن قید کے چھوٹنے سے ہستی ہے اور

قاسم علی دیر اور حرم کے اندر

حق اور ہے شوق بت پرستی ہے اور