Poetry
Poet
Meter
- پھر وہی ماحول وہی شور شرابہوہی کچھ نئے پرانے چہروں کا بول بالاMadhav Awana (b. 1974)
- خواب ہی تو ملے ہیں ہمیں روٹی کے خواب تعلیم کے خوابحکمرانوں نے دکھائے آزادی کے بعد نئی تنظیم کے خوابMadhav Awana (b. 1974)
- سب کچھ بدل رہا ہےسینہ میں کچھ جل رہا ہےMadhav Awana (b. 1974)
- کھلی آنکھ سے دیکھ لیے خواب پینسٹھ سالاور اب میں جاگ جانے کو کہوں تو جرمMadhav Awana (b. 1974)
- مت شکایت کرو کہ سرکار سو رہی ہےزباں پے لگام رکھو کہ سرکار سو رہی ہےMadhav Awana (b. 1974)
- میں نے کہا یہ ملک ایک ہےتو سب کے لئے ایک سا ہو قانونMadhav Awana (b. 1974)
- نام بے شک آم آدمی ہوپر میں تو مسیحا ہوںMadhav Awana (b. 1974)
- ہمارا راجہ اندھا اور بہراراجہ اپنی بنائی رتوندھی میں مست ہےMadhav Awana (b. 1974)
- دیکھ کر کسی کا دیش کے لئے اپواسہم نیتاؤں کا اڑاتے ہیں اپہاسMadhav Awana (b. 1974)
- بنا کے وہم و گماں کی دنیا حقیقتوں کے سراب دیکھوںمیں اپنے ہی آئنے میں خود کو جہاں بھی دیکھوں خراب دیکھوںUmair Manzar (b. 1974)
- جب انسان کو اپنا کچھ ادراک ہواسارا عالم اس کی نظر میں خاک ہواUmair Manzar (b. 1974)
- خود کو ہر روز امتحان میں رکھبال و پر کاٹ کر اڑان میں رکھUmair Manzar (b. 1974)
- علم و فن کے راز سر بستہ کو وا کرتا ہواوہ مجھے جب بھی ملا ہے ترجمہ کرتا ہواUmair Manzar (b. 1974)
- کبھی اقرار ہونا تھا کبھی انکار ہونا تھااسے کس کس طرح سے در پئے آزار ہونا تھاUmair Manzar (b. 1974)
- ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیامیں رسم زندگی جو نبھانے میں رہ گیاUmair Manzar (b. 1974)
- آج فرصت ہے تو کچھ دیر ٹھہر دیکھ مجھےمجھ پہ بھی ڈال ذرا ایک نظر دیکھ مجھےNabil (b. 1974)
- خوش ہو کوئی دنیا میں یہ آسان نہیں ہےانساں کبھی انساں بنے امکان نہیں ہےNabil (b. 1974)
- کبھی وہ موت سے ڈرتا ہے زندگی سے کبھیوہ کام جھوٹ سے لیتا ہے بندگی سے کبھیNabil (b. 1974)
- مٹے ہیں عشق میں ایسے کہ کون جانے ہےزمیں سے پوچھ فلک سے کہ اب کہاں ہوں میںNabil (b. 1974)
- ہنر کہاں ہے کہ میں اور کوئی خیال لکھوںسوائے درد کے کیا ہے جسے کمال لکھوںNabil (b. 1974)
- آج رسوا ہیں تو ہم کوچہ و بازار بہتیا کبھی گیت بھی گاتے تھے سر دار بہتQais Rampuri (b. 1974)
- دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میںہاں بظاہر ترے ہاتھوں کا کھلونا ہوں میںQais Rampuri (b. 1974)
- وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گیاگر مرے ساتھ ساتھ آئیں تو اک نئی زندگی ملے گیQais Rampuri (b. 1974)
- یاد اس کی ہے اور چاندنی ہےرات اک حادثہ بن گئی ہےQais Rampuri (b. 1974)
- وصف جو آپ سے جڑا ہوگاہو بہو حکم کبریا ہوگاFaisal Saeed Zirgham (b. 1974)
- یہ تیرہ بخت بیانوں میں قید رہتے ہیںوطن ہمارے ترانوں میں قید رہتے ہیںFaisal Saeed Zirgham (b. 1974)
- ہمالہ کے نوکیلے بدن سے پھسلتی ہوئی چنچل بوندیںاس کے قدموں پہ جا گریںFaisal Saeed Zirgham (b. 1974)
- آرزوئیں نہ چھین خواب نہ چھینمیرا سامان اضطراب نہ چھینIftikhar Haidar (b. 1975)
- اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتےہم آہ تو بھرتے ہیں دہائی نہیں دیتےIftikhar Haidar (b. 1975)
- اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانیفریب کھاتے ہوئے گزرنی ہے زندگانی تو ہار مانیIftikhar Haidar (b. 1975)
- ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہےاس کھڑکی کے پار انوکھی دنیا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہےتونگرو ادھر آؤ فقیر موج میں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کےآج ذرا کھل کھیلنے والے ہیں انداز گھٹاؤں کےIftikhar Haidar (b. 1975)
- جب ایک شخص اپنا ٹھکانہ بدل گیاپھر اس کے ساتھ سارا زمانہ بدل گیاIftikhar Haidar (b. 1975)
- زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہےرات گئے تنہائی جس دم شور مچانے لگ جاتی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہےکسی کو دل میں بسانے سے بات بگڑی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- فیض عہد جدید تنہائیسہہ رہا ہوں شدید تنہائیIftikhar Haidar (b. 1975)
- قرار ہوتے ہوئے بے قرار یعنی میںتمہارے ہجر کا اک سوگوار یعنی میںIftikhar Haidar (b. 1975)
- کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہےعشق میرے لیے نیا نہیں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھیتمہاری یاد کی جلوہ گری تھیIftikhar Haidar (b. 1975)
- وحشت فراق خوف ترا دھیان الامانکتنی بلائیں ہیں مری مہمان الامانIftikhar Haidar (b. 1975)
- وحشت ہے بے زاری ہےشام بھی کتنی بھاری ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- ویسے تو انسان خدا کا خاص خلیفہ بنتا ہےلیکن جو حالات ہیں اس کے ان پر رونا بنتا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- اپنے لہجے پہ غور کر کے بتالفظ کتنے ہیں تیر کتنے ہیںIftikhar Haidar (b. 1975)
- امیدیں باندھ رکھی ہیں ترے لطف و کرم سےسیہ اعمال ہوں تو گوشوارہ کون دیکھےIftikhar Haidar (b. 1975)
- ایسوں ویسوں کے قصیدے نہیں لکھے جاتےشعر لکھ لیتا ہوں سہرے نہیں لکھے جاتےIftikhar Haidar (b. 1975)
- بجلی گئی تو وہ بھی ہمارے مکان کیبجلی گری تو وہ بھی ہمارے مکان پرIftikhar Haidar (b. 1975)
- بے خطا ہے تو پھر بھی ڈر اے دوستبے خطا ہی نہ دھر لیا جائےIftikhar Haidar (b. 1975)
- تب مری آس ٹوٹ جاتی ہےجب مری آس لوگ ہوتے ہیںIftikhar Haidar (b. 1975)
- تیرے قدموں میں آ کے گرنا ہےجس بلندی پہ بھی اچھال مجھےIftikhar Haidar (b. 1975)