Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پھر وہی ماحول وہی شور شرابہوہی کچھ نئے پرانے چہروں کا بول بالاMadhav Awana (b. 1974)
  2. خواب ہی تو ملے ہیں ہمیں روٹی کے خواب تعلیم کے خوابحکمرانوں نے دکھائے آزادی کے بعد نئی تنظیم کے خوابMadhav Awana (b. 1974)
  3. سب کچھ بدل رہا ہےسینہ میں کچھ جل رہا ہےMadhav Awana (b. 1974)
  4. کھلی آنکھ سے دیکھ لیے خواب پینسٹھ سالاور اب میں جاگ جانے کو کہوں تو جرمMadhav Awana (b. 1974)
  5. مت شکایت کرو کہ سرکار سو رہی ہےزباں پے لگام رکھو کہ سرکار سو رہی ہےMadhav Awana (b. 1974)
  6. میں نے کہا یہ ملک ایک ہےتو سب کے لئے ایک سا ہو قانونMadhav Awana (b. 1974)
  7. نام بے شک آم آدمی ہوپر میں تو مسیحا ہوںMadhav Awana (b. 1974)
  8. ہمارا راجہ اندھا اور بہراراجہ اپنی بنائی رتوندھی میں مست ہےMadhav Awana (b. 1974)
  9. دیکھ کر کسی کا دیش کے لئے اپواسہم نیتاؤں کا اڑاتے ہیں اپہاسMadhav Awana (b. 1974)
  10. بنا کے وہم و گماں کی دنیا حقیقتوں کے سراب دیکھوںمیں اپنے ہی آئنے میں خود کو جہاں بھی دیکھوں خراب دیکھوںUmair Manzar (b. 1974)
  11. جب انسان کو اپنا کچھ ادراک ہواسارا عالم اس کی نظر میں خاک ہواUmair Manzar (b. 1974)
  12. خود کو ہر روز امتحان میں رکھبال و پر کاٹ کر اڑان میں رکھUmair Manzar (b. 1974)
  13. علم و فن کے راز سر بستہ کو وا کرتا ہواوہ مجھے جب بھی ملا ہے ترجمہ کرتا ہواUmair Manzar (b. 1974)
  14. کبھی اقرار ہونا تھا کبھی انکار ہونا تھااسے کس کس طرح سے در پئے آزار ہونا تھاUmair Manzar (b. 1974)
  15. ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیامیں رسم زندگی جو نبھانے میں رہ گیاUmair Manzar (b. 1974)
  16. آج فرصت ہے تو کچھ دیر ٹھہر دیکھ مجھےمجھ پہ بھی ڈال ذرا ایک نظر دیکھ مجھےNabil (b. 1974)
  17. خوش ہو کوئی دنیا میں یہ آسان نہیں ہےانساں کبھی انساں بنے امکان نہیں ہےNabil (b. 1974)
  18. کبھی وہ موت سے ڈرتا ہے زندگی سے کبھیوہ کام جھوٹ سے لیتا ہے بندگی سے کبھیNabil (b. 1974)
  19. مٹے ہیں عشق میں ایسے کہ کون جانے ہےزمیں سے پوچھ فلک سے کہ اب کہاں ہوں میںNabil (b. 1974)
  20. ہنر کہاں ہے کہ میں اور کوئی خیال لکھوںسوائے درد کے کیا ہے جسے کمال لکھوںNabil (b. 1974)
  21. آج رسوا ہیں تو ہم کوچہ و بازار بہتیا کبھی گیت بھی گاتے تھے سر دار بہتQais Rampuri (b. 1974)
  22. دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میںہاں بظاہر ترے ہاتھوں کا کھلونا ہوں میںQais Rampuri (b. 1974)
  23. وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گیاگر مرے ساتھ ساتھ آئیں تو اک نئی زندگی ملے گیQais Rampuri (b. 1974)
  24. یاد اس کی ہے اور چاندنی ہےرات اک حادثہ بن گئی ہےQais Rampuri (b. 1974)
  25. وصف جو آپ سے جڑا ہوگاہو بہو حکم کبریا ہوگاFaisal Saeed Zirgham (b. 1974)
  26. یہ تیرہ بخت بیانوں میں قید رہتے ہیںوطن ہمارے ترانوں میں قید رہتے ہیںFaisal Saeed Zirgham (b. 1974)
  27. ہمالہ کے نوکیلے بدن سے پھسلتی ہوئی چنچل بوندیںاس کے قدموں پہ جا گریںFaisal Saeed Zirgham (b. 1974)
  28. آرزوئیں نہ چھین خواب نہ چھینمیرا سامان اضطراب نہ چھینIftikhar Haidar (b. 1975)
  29. اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتےہم آہ تو بھرتے ہیں دہائی نہیں دیتےIftikhar Haidar (b. 1975)
  30. اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانیفریب کھاتے ہوئے گزرنی ہے زندگانی تو ہار مانیIftikhar Haidar (b. 1975)
  31. ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہےاس کھڑکی کے پار انوکھی دنیا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  32. بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہےتونگرو ادھر آؤ فقیر موج میں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  33. تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کےآج ذرا کھل کھیلنے والے ہیں انداز گھٹاؤں کےIftikhar Haidar (b. 1975)
  34. جب ایک شخص اپنا ٹھکانہ بدل گیاپھر اس کے ساتھ سارا زمانہ بدل گیاIftikhar Haidar (b. 1975)
  35. زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہےرات گئے تنہائی جس دم شور مچانے لگ جاتی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  36. فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہےکسی کو دل میں بسانے سے بات بگڑی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  37. فیض عہد جدید تنہائیسہہ رہا ہوں شدید تنہائیIftikhar Haidar (b. 1975)
  38. قرار ہوتے ہوئے بے قرار یعنی میںتمہارے ہجر کا اک سوگوار یعنی میںIftikhar Haidar (b. 1975)
  39. کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہےعشق میرے لیے نیا نہیں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  40. گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھیتمہاری یاد کی جلوہ گری تھیIftikhar Haidar (b. 1975)
  41. وحشت فراق خوف ترا دھیان الامانکتنی بلائیں ہیں مری مہمان الامانIftikhar Haidar (b. 1975)
  42. وحشت ہے بے زاری ہےشام بھی کتنی بھاری ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  43. ویسے تو انسان خدا کا خاص خلیفہ بنتا ہےلیکن جو حالات ہیں اس کے ان پر رونا بنتا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  44. اپنے لہجے پہ غور کر کے بتالفظ کتنے ہیں تیر کتنے ہیںIftikhar Haidar (b. 1975)
  45. امیدیں باندھ رکھی ہیں ترے لطف و کرم سےسیہ اعمال ہوں تو گوشوارہ کون دیکھےIftikhar Haidar (b. 1975)
  46. ایسوں ویسوں کے قصیدے نہیں لکھے جاتےشعر لکھ لیتا ہوں سہرے نہیں لکھے جاتےIftikhar Haidar (b. 1975)
  47. بجلی گئی تو وہ بھی ہمارے مکان کیبجلی گری تو وہ بھی ہمارے مکان پرIftikhar Haidar (b. 1975)
  48. بے خطا ہے تو پھر بھی ڈر اے دوستبے خطا ہی نہ دھر لیا جائےIftikhar Haidar (b. 1975)
  49. تب مری آس ٹوٹ جاتی ہےجب مری آس لوگ ہوتے ہیںIftikhar Haidar (b. 1975)
  50. تیرے قدموں میں آ کے گرنا ہےجس بلندی پہ بھی اچھال مجھےIftikhar Haidar (b. 1975)