بات رک رک کر بڑھی پھر ہچکیوں میں آ گئی

Gautam Rajrishi (b. 1975)

بات رک رک کر بڑھی پھر ہچکیوں میں آ گئی

فون پر جو ہو نہ پائی چٹھیوں میں آ گئی

صبح دو خاموشیوں کو چائے پیتے دیکھ کر

گنگنی سی دھوپ اتری پیالیوں میں آ گئی

ٹرین اوجھل ہو گئی اک ہاتھ ہلتا رہ گیا

وقت رخصت کی اداسی چوڑیوں میں آ گئی

ادھ کھلی رکھی رہی یوں ہی وہ ناول گود میں

اٹھ کے پنوں سے کہانی سسکیوں میں آ گئی

چار دن ہونے کو آئے کال اک آیا نہیں

چپی موبائل کی اب بے چینیوں میں آ گئی

باٹ جو ہے تھک گئی چھت پر کھڑی جب دوپہر

شام کی چادر لپیٹے کھڑکیوں میں آ گئی

رات نے یادوں کی ماچس سے نکالی تیلیاں

اور اک سگریٹ سلگی انگلیوں میں آ گئی