جو گامزن ہیں انہیں قافلوں کے ساتھ چلو

Nafas Ambalvi (b. 1961)

جو گامزن ہیں انہیں قافلوں کے ساتھ چلو

یہ مشورہ ہے مرا تجربوں کے ساتھ چلو

گزشتہ دور کے ماضی سے کچھ سبق لے کر

نئے سفر پہ نئے حوصلوں کے ساتھ چلو

تمہارے زخم نہیں یہ سفر کی عظمت ہیں

جو چل سکو تو انہیں آبلوں کے ساتھ چلو

کہیں تمہارا تکبر نہ تم کو لے ڈوبے

تو خود شناس رہو آئنوں کے ساتھ چلو

تمہارے ہاتھ کے پتھر کہاں کہاں برسے

یہ دیکھنا ہو تو شیشہ گروں کے ساتھ چلو

مجھے یقین ہے اب بھی پرانے لوگوں پر

ابھی بھی وقت ہے ان فلسفوں کے ساتھ چلو

سفر کی ساری کتابیں پلٹ کے دیکھی ہیں

کہاں لکھا ہے نفسؔ جاہلوں کے ساتھ چلو