خود کو اس شہر میں تنہا بھی نہیں کہہ سکتے

Nafas Ambalvi (b. 1961)

خود کو اس شہر میں تنہا بھی نہیں کہہ سکتے

اور کسی شخص کو اپنا بھی نہیں کہہ سکتے

اپنی قربت میں بھی تو نے ہمیں پیاسا رکھا

ہم تو دریا تجھے دریا بھی نہیں کہہ سکتے

کس کے سجدوں میں جھکیں کس سے دعائیں مانگیں

ہر کسی کو تو مسیحا بھی نہیں کہہ سکتے

گاؤں میں آج بھی لگتا ہے وہ گھر ہے اپنا

اس کی مٹی کو تو ملبہ بھی نہیں کہہ سکتے

زندگی ایک تماشا ہے مگر کیا کیجے

اس تماشے کو تماشا بھی نہیں کہہ سکتے

روز آئینے میں ملتا ہے نئے زخم لیے

ایک چہرہ جسے چہرہ بھی نہیں کہہ سکتے