عمر بھی کٹ گئی اور جیا بھی نہیں
Nafas Ambalvi (b. 1961)عمر بھی کٹ گئی اور جیا بھی نہیں
زندگی تجھ سے کوئی گلہ بھی نہیں
درد جینے کی اک لازمی شرط ہے
اور ستم ہے کہ اس کی دوا بھی نہیں
لوٹنا ہی نہیں تھا مجھے پھر کبھی
ورنہ مڑ مڑ کے گھر دیکھتا بھی نہیں
عکس کو دیکھ کر اپنے حیران ہوں
میرے کمرے میں تو آئنہ بھی نہیں
زندگی تو کبھی جی نہ پائے مگر
اپنے حصے میں جیسے قضا بھی نہیں
بچ کے مقتل سے تو لوٹ آئے مگر
اب کہاں جائیں گے کچھ پتہ بھی نہیں
لوگ اتنے برے تو نہیں شیخ جی
آپ جیسے مگر پارسا بھی نہیں
اپنا دل بھی سلگتا شرر ہے نفسؔ
جو جلا بھی نہیں تو بجھا بھی نہیں