دربدر ہو کے در سے ٹوٹ گیا

Nafas Ambalvi (b. 1961)

دربدر ہو کے در سے ٹوٹ گیا

میں تو جیسے سفر سے ٹوٹ گیا

ڈھل گئی شام اب کہاں جاؤں

جو تعلق تھا گھر سے ٹوٹ گیا

کچھ خبر بھی ہے ان ہواؤں کو

زرد پٹا شجر سے ٹوٹ گیا

کوئی حد بھی تو ہو بکھرنے کی

خواب دیکھا تو ڈر سے ٹوٹ گیا

تم نے ناحق اٹھا لئے پتھر

آئنہ تو نظر سے ٹوٹ گیا

عہد یہ تھا کہ ساتھ چلنا ہے

پھر بشر ہی بشر سے ٹوٹ گیا