Poetry
Poet
Meter
- زندگی ریشمیں قالین نہیں ہوتیخواب کے پاؤں بھی ہوتے ہیں کہاںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- زندگی سمٹتی ہےدائروں کے اندر ہیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- عجیب آندھیاں چلیںہوائیں تیز تر ہوئیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مرا دل جیسے کوئی آئینہ ہےترا ہی عکس اس میں بس گیا ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مرے خدائے بزرگ و برتریہ سچ ہے ذات و صفات تو ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ابھی کچھ اور سانسیں رہ گئی ہیںابھی کچھ اور رسالوں تک مجھے گننا ہے ان کوRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- دور تکہر طرفRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- سینکڑوں بار یہی دل میں خیال آیا ہےمیں تری راہ میں گل بن کے بکھر سکتی تھیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مری جاں یہ مدت سے میں جانتی ہوںتمہارا یہ دل کوئی پتھر نہیں ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- نرم لہجے میں سہیاس نے کہا تھا اک دنRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- نہیں تھی وہتو جانےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- تری بے اعتنائی کابڑا احسان ہے مجھ پرRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- تم مرے پاس رہو ساتھ رہواور یہ احساس رہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- دھنک اوڑھ کر پھر رہی ہو مگرتم نے سوچا کبھیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- سانس لینے کے لئےقصر و کاشانہ ضروری تو نہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ماںتیرے آنچل کے سارے پھول چنے میں نےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- یہ تم نہ کہناکسی سے تم کوRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- جاگے ضمیر ذہن کھلے تازگی ملےچھوٹے گہن کہ مجھ کو مری روشنی ملےYaqoob Rahi (b. 1943)
- خود پہ الزام کیوں دھرو بابازندگی موت ہے مرو باباYaqoob Rahi (b. 1943)
- خون کی ایک ندی اور بہے گی شایدجنگ جاری ہے تو جاری ہی رہے گی شایدYaqoob Rahi (b. 1943)
- درد اس کا ابھر رہا ہوگاسارا نشہ اتر رہا ہوگاYaqoob Rahi (b. 1943)
- زندگی دشت بلا ہو جیسےتجھ کو پانے کی سزا ہو جیسےYaqoob Rahi (b. 1943)
- سرخ لاوے کی طرح تپ کے نکھرنا سیکھوسوکھی دھرتی کی دراروں سے ابھرنا سیکھوYaqoob Rahi (b. 1943)
- کوئی بادل تپش غم سے پگھلتا ہی نہیںاور دل ہے کہ کسی طرح بہلتا ہی نہیںYaqoob Rahi (b. 1943)
- کوئی بے نام خلش اکسائےکیا ضروری ہے تری یاد آئےYaqoob Rahi (b. 1943)
- مشاہدہ نہ کوئی تجربہ نہ خواب کوئیتمام شعر و سخن حرف اجتناب کوئیYaqoob Rahi (b. 1943)
- ہوائے صبح نمو دشمن چمن کیسےشکار رشک و رقابت گل و سمن کیسےYaqoob Rahi (b. 1943)
- تیرا احساس ہےکہ صحن خموشی میں ابھرتی ہوئیYaqoob Rahi (b. 1943)
- یہ تند و تیز ہواتری گلی مرے جنگل کو جو ملاتی ہےYaqoob Rahi (b. 1943)
- گزشتہ راتمیں خوابوں کی دنیا سےYaqoob Rahi (b. 1943)
- لفظ و معنی میںسنگھرش جاری ہےYaqoob Rahi (b. 1943)
- اپنی تعبیر کے صحرا میںجلے خوابوں کیYaqoob Rahi (b. 1943)
- جب بھی دھرتی کا کوئی حصہتمہیں چپ سا دکھائی دے تو اس کی خامشی کوYaqoob Rahi (b. 1943)
- رات بھراس خریدے ہوئے جسم سےYaqoob Rahi (b. 1943)
- صبح سورج کی کرنکوچہ کوچہ تری امید میں بھٹکاتی ہےYaqoob Rahi (b. 1943)
- آخر اداس اداس طبیعت بھی کیا کرےاب میرا دل کسی سے محبت بھی کیا کرےVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- آنسوؤں کو اپنی پلکوں پر سجا کر لے گیامیں بھی اس محفل میں کچھ شمعیں جلا کر لے گیاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- تیری ہی تصویر میں تیرا بدل ڈھونڈا گیاکتنی آسانی سے اک مشکل کا حل ڈھونڈا گیاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- دنیا میں وہی لوگ برے ہیں جو بھلے ہیںڈھونڈو گے اندھیرے تو چراغوں کے تلے ہیںVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- کس کس کی یاد دل کو ستاتی ہے کیا کہیںتنہائی کیا کیا بزم سجاتی ہے کیا کہیںVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- مٹیں گے میرے دل سے رنج و غم آہستہ آہستہقرار آئے گا تجھ کو چشم نم آہستہ آہستہVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- ہو گئے رخصت مرے ارمان ایسا کچھ نہیںتیرا غم دل میں نہ ہو مہمان ایسا کچھ نہیںVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- پہلے ڈالی ترے چہرے پہ بہت دیر نظرعید کا چاند تو پھر بعد میں دیکھا میں نےVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- مجھے شراب پلائی گئی ہے آنکھوں سےمرا نشہ تو ہزاروں برس میں اترے گاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- سنگ اس کا ہے اور سر میراآخری موڑ پر ہے ڈر میراEhsan Saqib (b. 1943)
- سورج سے بھی آگے کا جہاں دیکھ رہا ہےاس دور کا انسان کہاں دیکھ رہا ہےEhsan Saqib (b. 1943)
- ہم جانتے ہیںیہ دنیا ہمیں جینے نہیں دے گیEhsan Saqib (b. 1943)
- یاد آئی جب مجھے فرحتؔ سے چھوٹی تھی بہنمیرے دشمن کی بہن نے مجھ کو راکھی باندھ دیEhsan Saqib (b. 1943)
- اور سناؤ کیسے ہو تماب تک پہلے جیسے ہو تمVigyan Vrat (b. 1943)
- جتنے لوگ شہر میں ہیںایک مسلسل ڈر میں ہیںVigyan Vrat (b. 1943)