Poetry
Poet
Meter
- کیا جانے کتنے ہی رنگوں میں ڈوبی ہےرنگ بدلتی دنیا میں جو یک رنگی ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہیاور کھیلوں سے محبت ہی سہیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتاکبھی فیل امتحاں میں نہ میں بار بار ہوتاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوںپڑھنا نہ تھا تمہیں اگر درجے میں پڑھنے آئے کیوںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئےآنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میںہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندےلرزتی دھوپ کی آغوش میں سہمے پرندےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- آغوش والدہ میں پالا تھا ہم کو جس نےاک پیکر ادب میں ڈھالا تھا ہم کو جس نےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- ابھی ہم لوگ بچے ہیں مگر اک دن جواں ہوں گےہمیں اک دن وقار مادر ہندوستاں ہوں گےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- اگر تیرے معدے میں ہے کچھ گرانیتو لیمو کا رس پی لے ادرک کا پانیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- او پاس ہونے والے ہم کو بھی ساتھ لے لےہم رہ گئے اکیلےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہےہم مل کر شور مچاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- چاند پہلے بھی خوب صورت تھاآج بھی چاند خوب صورت ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- ساری دنیا میں لا جواب بنوانتخابوں کا انتخاب بنوKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- سارے وطن کے راج دلارےصدر حکومت ذاکر پیارےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- سب زبانوں کی جان ہے اردوکتنی پیاری زبان ہے اردوKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استادہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استادKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- کسی دن چاند پر ہم لوگ بھی راکٹ سے جائیں گےیہ مانا چاند ابھی اک ریت کا میدان ہے لیکنKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- لو گھنٹہ بجا انٹرول کااب وقت آیا ہے ہلچل کاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- مادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔاپنے فن میں بڑے ہشیار تھے مرزا غالبؔKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- مری گڑیا کسی دن چاند پر شادی رچائے گیزمیں کے تو سبھی گڈے نظر آتے ہیں اب بڈھےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- نتیجہ سن کے کئی لوگ بد حواس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- وائے تقدیر میں گدھا نہ ہواہم نوا کرشن چندر کا نہ ہواKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جیہر ایک فرد کے ہمدرد غم گسار وطنKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- ہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبتعلیم نہ ہوگی جس میں کبھی سب آزادی سے گھومیں گےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- سوچتا ہوںوقت کی گردن پکڑ کرKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- آج پھر شاخ سے گرے پتےاور مٹی میں مل گئے پتےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہرراتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئیجیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہواجس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کاکتنا دل کش تھا وہ منظر بھری برساتوں کاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیںدل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اجڑ جاتے ہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- بدلتی رت پہ ہواؤں کے سخت پہرے تھےلہو لہو تھی نظر داغ داغ چہرے تھےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- بسنتی رت ہے سب پھولوں کو تو محفوظ رکھنامیرے اللہ کھلی سرسوں کو تو محفوظ رکھناRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنےلوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- جاڑوں بھر کیوں میرے آنگن میں سایہ تھاسورج نے کس چھت پر خیمہ لگوایا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- جس کی خاطر عمر گنوائی اک دنیا کو بھولی میںجی کہتا تھا اس سے کہہ دوں لیکن کیسے کہتی میںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہےآج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھامیز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- روز اٹھتا ہے دھواں کوہ ندا کے اس پارچاند چپ چاپ سلگتا ہے فضا کے اس پارRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- گھرے ہیں چاروں طرف بیکسی کے بادل پھرسلگ رہا ہے ستاروں بھرا اک آنچل پھرRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھاگھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگشاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- وہ تیری یاد کے لمحے ترے خیال کے دنعلاج درد کے زخموں کے اندمال کے دنRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ہوائیں بے عناں ہیں آج گھر سے دور مت جاؤ کہا تھا نااگر جاؤ چلے جانا مگر جلدی ہی لوٹ آؤ کہا تھا ناRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- آج بھی کوئی کہیں گوش بر آواز نہ تھاآج بھی چاروں طرف لوگ تھے اندھے بہرےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- آج پھر ذہن کے ان بند دریچوں کے تلےدل میں سوئے ہوئے احساس نے کروٹ بدلیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو کٹا لوں تو چلوںغسل خانے میں ذرا دھوم مچا لوں تو چلوںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- اس دنیا میںچشم و زباں کےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- پر رنگ ہوس نے پھڑپھڑائےبڑھنے لگے نشے کے سائےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)