Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کیا جانے کتنے ہی رنگوں میں ڈوبی ہےرنگ بدلتی دنیا میں جو یک رنگی ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  2. مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہیاور کھیلوں سے محبت ہی سہیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  3. مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتاکبھی فیل امتحاں میں نہ میں بار بار ہوتاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  4. نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوںپڑھنا نہ تھا تمہیں اگر درجے میں پڑھنے آئے کیوںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  5. ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئےآنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  6. ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میںہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  7. یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندےلرزتی دھوپ کی آغوش میں سہمے پرندےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  8. آغوش والدہ میں پالا تھا ہم کو جس نےاک پیکر ادب میں ڈھالا تھا ہم کو جس نےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  9. ابھی ہم لوگ بچے ہیں مگر اک دن جواں ہوں گےہمیں اک دن وقار مادر ہندوستاں ہوں گےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  10. اگر تیرے معدے میں ہے کچھ گرانیتو لیمو کا رس پی لے ادرک کا پانیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  11. او پاس ہونے والے ہم کو بھی ساتھ لے لےہم رہ گئے اکیلےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  12. جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہےہم مل کر شور مچاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  13. چاند پہلے بھی خوب صورت تھاآج بھی چاند خوب صورت ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  14. ساری دنیا میں لا جواب بنوانتخابوں کا انتخاب بنوKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  15. سارے وطن کے راج دلارےصدر حکومت ذاکر پیارےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  16. سب زبانوں کی جان ہے اردوکتنی پیاری زبان ہے اردوKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  17. کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استادہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استادKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  18. کسی دن چاند پر ہم لوگ بھی راکٹ سے جائیں گےیہ مانا چاند ابھی اک ریت کا میدان ہے لیکنKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  19. لو گھنٹہ بجا انٹرول کااب وقت آیا ہے ہلچل کاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  20. مادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔاپنے فن میں بڑے ہشیار تھے مرزا غالبؔKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  21. مری گڑیا کسی دن چاند پر شادی رچائے گیزمیں کے تو سبھی گڈے نظر آتے ہیں اب بڈھےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  22. نتیجہ سن کے کئی لوگ بد حواس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  23. وائے تقدیر میں گدھا نہ ہواہم نوا کرشن چندر کا نہ ہواKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  24. وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جیہر ایک فرد کے ہمدرد غم گسار وطنKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  25. ہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبتعلیم نہ ہوگی جس میں کبھی سب آزادی سے گھومیں گےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  26. سوچتا ہوںوقت کی گردن پکڑ کرKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  27. آج پھر شاخ سے گرے پتےاور مٹی میں مل گئے پتےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  28. تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہرراتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  29. کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئیجیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  30. وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہواجس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  31. ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کاکتنا دل کش تھا وہ منظر بھری برساتوں کاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  32. ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیںدل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اجڑ جاتے ہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  33. بدلتی رت پہ ہواؤں کے سخت پہرے تھےلہو لہو تھی نظر داغ داغ چہرے تھےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  34. بسنتی رت ہے سب پھولوں کو تو محفوظ رکھنامیرے اللہ کھلی سرسوں کو تو محفوظ رکھناRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  35. بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنےلوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  36. جاڑوں بھر کیوں میرے آنگن میں سایہ تھاسورج نے کس چھت پر خیمہ لگوایا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  37. جس کی خاطر عمر گنوائی اک دنیا کو بھولی میںجی کہتا تھا اس سے کہہ دوں لیکن کیسے کہتی میںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  38. خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہےآج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  39. ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھامیز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  40. روز اٹھتا ہے دھواں کوہ ندا کے اس پارچاند چپ چاپ سلگتا ہے فضا کے اس پارRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  41. گھرے ہیں چاروں طرف بیکسی کے بادل پھرسلگ رہا ہے ستاروں بھرا اک آنچل پھرRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  42. مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھاگھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  43. نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگشاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  44. وہ تیری یاد کے لمحے ترے خیال کے دنعلاج درد کے زخموں کے اندمال کے دنRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  45. ہوائیں بے عناں ہیں آج گھر سے دور مت جاؤ کہا تھا نااگر جاؤ چلے جانا مگر جلدی ہی لوٹ آؤ کہا تھا ناRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  46. آج بھی کوئی کہیں گوش بر آواز نہ تھاآج بھی چاروں طرف لوگ تھے اندھے بہرےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  47. آج پھر ذہن کے ان بند دریچوں کے تلےدل میں سوئے ہوئے احساس نے کروٹ بدلیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  48. اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو کٹا لوں تو چلوںغسل خانے میں ذرا دھوم مچا لوں تو چلوںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  49. اس دنیا میںچشم و زباں کےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  50. پر رنگ ہوس نے پھڑپھڑائےبڑھنے لگے نشے کے سائےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)