کس کس کی یاد دل کو ستاتی ہے کیا کہیں

Vijendra Singh Parwaz (b. 1943)

کس کس کی یاد دل کو ستاتی ہے کیا کہیں

تنہائی کیا کیا بزم سجاتی ہے کیا کہیں

وہ اک نگاہ جب بھی گزرتے ہیں راہ سے

اصرار کر کے ہم کو بلاتی ہے کیا کہیں

باریک لب پہ اس کے تبسم کی اک کرن

فتنے جو سو رہے ہیں جگاتی ہے کیا کہیں

پہنے ہوئے کھڑی ہے چراغوں کا پیرہن

اب تیرگی بھی جسم چھپاتی ہے کیا کہیں

دنیا کی کچھ خطا ہے نہ پروازؔ موت کی

یہ زندگی ہی ہم کو مٹاتی ہے کیا کہیں