سینکڑوں بار یہی دل میں خیال آیا ہے

Rafia Shabnam Abidi (b. 1943)

سینکڑوں بار یہی دل میں خیال آیا ہے

میں تری راہ میں گل بن کے بکھر سکتی تھی

تیری آنکھوں کے سمندر سے گزر سکتی تھی

تیری رگ رگ میں لہو بن کے اتر سکتی تھی

میری مغرور طبیعت نے مگر

ایسا ہونے نہ دیا

اور اب سوچتی ہوں

کاش ہو جائے یوں ہی

میں تری راہ گزر کا کوئی کانٹا بن جاؤں

اور جب تو کسی رنگین تصور میں مگن

بے خیالی میں مجھے روند کے آگے بڑھ جائے

تیرے تلووں میں چبھوں

تیرے لہو میں مل جاؤں