یہ تم نہ کہنا
Rafia Shabnam Abidi (b. 1943)یہ تم نہ کہنا
کسی سے تم کو
کبھی محبت نہیں رہی ہے
تمہارے لب پر
حکایت مہر و الفت نہیں رہی ہے
تمہاری آنکھوں نے ایک شب بھی
نہ کوئی قربت کا خواب دیکھا
نہ خون میں التہاب پایا
نہ روح میں اضطراب دیکھا
یہ تم نہ کہنا
تمہارے احساس کی زمیں پر
کوئی نہ گزرا
بدن دریدہ خزاں رسیدہ و پا تپیدہ
سلونی رنگت کی چاہتوں نے کبھی نہ ہوش و حواس لوٹے
ہتھیلیوں میں نہ چاند اترا نہ انگلیوں سے شرار پھوٹے
جو تم کہو تو بس اتنا کہنا
تمہاری آنکھوں کے آنگنوں میں
نئی گھٹائیں اتر رہی ہیں
اسی لئے تو پرانے موسم کا کوئی منظر بچا نہیں ہے
گزشتہ ساعت کا کوئی پیکر رہا نہیں ہے