آخر اداس اداس طبیعت بھی کیا کرے

Vijendra Singh Parwaz (b. 1943)

آخر اداس اداس طبیعت بھی کیا کرے

اب میرا دل کسی سے محبت بھی کیا کرے

تپتی رہی زمین کڑی دھوپ میں پڑی

سورج کی روشنی کی شکایت بھی کیا کرے

پتھر بنا کے چھوڑ گئے جس کو ہم سفر

اب اس کے ساتھ اور مصیبت بھی کیا کرے

سب جانتے ہیں ضبط کا ذمہ ہمیں پہ ہے

باغی نہیں ہے دل تو بغاوت بھی کیا کرے

لڑنے کو جب کسی سے میں تیار ہی نہیں

پروازؔ مجھ سے کوئی عداوت بھی کیا کرے