یہ کائنات ایک آئنہ ہے

Ejaz Farooqi (b. 1935)

یہ کائنات ایک آئنہ ہے

یہ صاف پانی کی جھیل

جس میں میں ڈوب کر

حیرت و تحیر بنا سراپا

جو لوٹتا ہوں

تو زندگی ہے نہ موت ہے

اک سرور ہوں

بے خودی ہوں

سچائی ہوں مجسم