اپنے دل کی قوس قزح کے
Ejaz Farooqi (b. 1935)اپنے دل کی قوس قزح کے
ٹکڑے ٹکڑے کر کے میں نے
لمحہ لمحہ رنگ بکھیرے
سورج کی ہر لحظہ برستی آگوں کو
اپنے ہی پگھلتے تن میں سمو کر
چاندنی جیسی اک ٹھنڈی چھتنار بنائی
بھوری دریدہ تن دھرتی پر
اشکوں کے بادل برسا کر
پیلی ہری چادر پھیلائی
اپنی نظر کی سنہری کرنوں کی بارش سے
مانگوں میں سیندور بھرا
میرے لہو کے میٹھے رس سے
جنم جنم کے پیاسے صحراؤں میں جل تھل
بھکشو آئے
مانگوں کے سیندور کو چاٹا
پیلی ہری چادر کو روندا
لمبے ناخنوں والے کھردرے ہاتھوں سے ٹھنڈی چھتنار پہ جھپٹے
پاک پوتر جل تھل میں کالے جسموں کی سیاہی گھولی
میرے دل کی قوس قزح سے زنجیروں کے حلقے ڈھالے
اب میں سمٹی آنکھ کی پتلی