Poetry
Poet
Meter
- حیران ہے کیوں راز بقا مجھ سے پوچھمیں زندۂ جاوید ہوں آ مجھ سے پوچھYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- دل کو حد سے سوا دھڑکنے نہ دیاقالب میں روح کو پھڑکنے نہ دیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- دنیا سے الگ جا کے کہیں سر پھوڑویا جیتے ہی جی مردوں سے ناتا جوڑوYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- دیکھوں کب تک گلوں کی یہ تشنہ لبیفطرت کا گلہ کروں تو ہے بے ادبیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- دیکھے ہیں بہت چمن اجڑتے بستےکیا کیا گل پیرہن لٹے ہیں سستےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- رونا ہے بدا جنہیں وہ جم جم روئیںجب عیش مہیا ہو تو ہم کیوں کھوئیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- زنجیر سے ہونے کا نہیں دل بھاریہوں پاؤں میں کتنی ہی سلاسل بھاریYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیںاک وسعت موہوم ہے حد کچھ بھی نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کوئی تجھ کو پکارتا جاتا ہےکوئی ہمت ہی ہارتا جاتا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کیوں مطلب ہستی و عدم کھل جاتاکیوں راز طلسم کیف و کم کھل جاتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- مشکل کوئی مشکل نہیں جینے کے سواخاموش لہو کا گھونٹ پینے کے سواYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- مفلس کو مزہ زیست کا چکھنے نہ دیااس نقد شباب کو پرکھنے نہ دیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ممکن نہیں اندیشۂ فردا کم ہوہاں تشنۂ غفلت ہو تو ایذا کم ہوYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- منزل کا پتا ہے نہ ٹھکانہ معلومجب تک نہ ہو گمراہ نہ آنا معلومYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- موجوں سے لپٹ کے پار اترنے والےطوفان بلا سے نہیں ڈرنے والےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- واعظ کو مناسب نہیں رندوں سے تنےمنبر پہ لتاڑ دیں اگر دل میں ٹھنےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- واللہ یہ زندگی بھی ہے قابل دیداک طرفہ طلسم دید جس کی نہ شنیدYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ہاں اے دل ایذا طلب آرام نہ لےبدنام نہ ہو مفت کا الزام نہ لےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- یوسف کو اس انجمن میں کیا ڈھونڈھتا ہےہنگامۂ ما و من میں کیا ڈھونڈھتا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچےپیاس آگ میں کود کر بجھانے والےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- دیوانۂ عشق کو نصیحت توبہYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سےکل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکشاب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گاگرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیاسر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کشش لکھنؤ ارے توبہپھر وہی ہم وہی امین آبادYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہودل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروںسنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھیلے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- نئی زمین نیا آسماں نئی دنیاعجیب شے یہ طلسم خیال ہوتا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبارمہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہےمٹنے کو یوں مٹیں کہ ابد تک نشاں رہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- آلام روزگار کو آساں بنا دیاجو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
- اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئےقطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئےAsghar Gondvi (1884–1936)
- اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہےحیرت بھی یہ حیرت ہے کہ کیا جانیے کیا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہےلطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میںپھر کیا کروں گا لے کے الٰہی اثر کو میںAsghar Gondvi (1884–1936)
- پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئےمیں بھی ہوں اک حباب میں دریا لئے ہوئےAsghar Gondvi (1884–1936)
- ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دیزبان بے نگہ رکھ دی نگاہ بے زباں رکھ دیAsghar Gondvi (1884–1936)
- تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرحمیں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرحAsghar Gondvi (1884–1936)
- جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسےجنت ہے ایک خون تمنا کہیں جسےAsghar Gondvi (1884–1936)
- جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہےاے شعبدہ پرداز یہ کیا طرز نظر ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سےکہ اس کو ڈھونڈھتے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سےAsghar Gondvi (1884–1936)
- ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیاکفر کو اس طرح چمکایا کہ ایماں کر دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
- رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتےسامنے لا کر تجھے اپنا تماشا دیکھتےAsghar Gondvi (1884–1936)
- سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کیمیں نے پوری شکل دکھلا دی دل ناشاد کیAsghar Gondvi (1884–1936)
- صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیںمیں فقط درد ہوں جس میں کوئی آواز نہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
- عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہےحسن بے پردا نہیں ہوتا مگر دستور ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہےساری خطا مرے دل شورش ادا کی ہےAsghar Gondvi (1884–1936)