دیکھوں کب تک گلوں کی یہ تشنہ لبی
Yaas Yagana Changezi (1884–1956)دیکھوں کب تک گلوں کی یہ تشنہ لبی
فطرت کا گلہ کروں تو ہے بے ادبی
پیاسے تو ہیں جاں بہ لب مگر ابر کرم
دریا پہ برستا ہے زہے بوالعجبی
دیکھوں کب تک گلوں کی یہ تشنہ لبی
فطرت کا گلہ کروں تو ہے بے ادبی
پیاسے تو ہیں جاں بہ لب مگر ابر کرم
دریا پہ برستا ہے زہے بوالعجبی