Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھےشام سے یاسؔ سویرا نظر آتا ہے مجھےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  2. دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیںخواب آنکھوں نے بہت دیکھے مگر یاد نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  3. دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتااس جادۂ باطل سے پھرا بھی نہیں جاتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  4. دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہارجلوہ گر خواب میں رہنے لگی تصویر بہارYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  5. دیتی ہے وحشت دل فصل بہاراں کی خبراب کہاں وحشیوں کو جیب و گریباں کی خبرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  6. روشن تمام کعبہ و بت خانہ ہو گیاگھر گھر جمال یار کا افسانہ ہو گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  7. رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کرخوشا انجام اٹھے بھی تو محروم دعا ہو کرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  8. زمانہ خدا کو خدا جانتا ہےیہی جانتا ہے تو کیا جانتا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  9. زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہےدکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  10. سایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کاکیا مرتبہ بلند ہو اپنے مزار کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  11. سلامت رہیں دل میں گھر کرنے والےاس اجڑے مکاں میں بسر کرنے والےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  12. سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کاشمع گل ہو گئی دل بجھ گیا پروانے کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  13. شکوۂ درد جگر اے مہرباں کیوں کر کریںآپ سن کیوں کر سکیں اور ہم بیاں کیوں کر کریںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  14. غضب کی دھوم شبستان روزگار میں ہےکشش بلا کی تماشائے ناگوار میں ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  15. فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہاچار دن تک تو جوانی کا عجب جوش رہاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  16. قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوارخ داستان غم کا ادھر سے ادھر ہواYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  17. قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنامکان اپنا زمین اپنی آسماں اپناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  18. قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہارچھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہارYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  19. قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونافلک کا شام سے دست و گریبان سحر ہوناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  20. کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہےاک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  21. کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سےمست ہیں عالم ایجاد کے نظاروں سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  22. کچھ زرد زرد پتے نشاں جو خزاں کے ہیںنیرنگ دل فریب یہ سب آسماں کے ہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  23. کس دل سے ترک لذت دنیا کرے کوئیوہ خواب دل فریب کہ دیکھا کرے کوئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  24. کس کی آواز کان میں آئیدور کی بات دھیان میں آئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  25. کیسی کیسی بستیاں دو دن میں ویراں ہو گئیںدیکھتے ہی دیکھتے گرد پریشاں ہو گئیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  26. کیوں کسی سے وفا کرے کوئیدل نہ مانے تو کیا کرے کوئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  27. گر یاد میں ساقی کی ساغر نظر آ جائےپیمانۂ دل چھلکے منہ کو جگر آ جائےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  28. لپٹتی ہے بہت یاد وطن جب دامن دل سےپلٹ کر اک سلام شوق کر لیتا ہوں منزل سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  29. مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتاپرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  30. محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھیاو دشمن جاں دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  31. مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتےبتوں کو سجدہ بھی کرتے تو قبلہ رو کرتےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  32. موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیےمنزل ہے ختم سجدۂ شکرانہ کیجیےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  33. واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلایا کسی کے حسن عالم تاب کا دفتر کھلاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  34. وحشت تھی ہم تھے سایۂ دیوار یار تھایا یہ کہو کہ سر پہ کوئی جن سوار تھاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  35. ہنوز درد جدائیٔ یار باقی ہےکھٹک رہا تھا جو دل میں وہ خار باقی ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  36. ہنوز زندگیٔ تلخ کا مزہ نہ ملاکمال صبر ملا صبر آزما نہ ملاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  37. یار کی تصویر ہی دکھلا دے اے مانی مجھےکچھ تو ہو اس نزع کی مشکل میں آسانی مجھےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  38. یار ہے آئنہ ہے شانہ ہےچشم بد دور کیا زمانہ ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  39. یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میںیادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  40. بے درد ہو کیا جانو مصیبت کے مزےہیں رنج کے دم قدم سے راحت کے مزےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  41. چارہ نہیں کوئی جلتے رہنے کے سواسانچے میں فنا کے ڈھلتے رہنے کے سواYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  42. چھٹ بھیوں کی شاعری کا یہ زور یہ شورایسوں کو کہے گا کون میدان کا چورYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  43. درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اورٹوٹے ہوئے دل کا آسرا ہے کچھ اورYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  44. دنیا طلبی جائے گی کیا جان کے ساتھکیسی یہ بلا لگی مسلمان کے ساتھYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  45. دنیا میں رہ کے راست بازی کب تکمشکل ہے کچھ آساں نہیں سیدھا مسلکYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  46. اپنی حد سے گزر گئے اب کیا ہےمنجدھار سے پار اتر گئے اب کیا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  47. ارمان نکلنے کا مزہ ہے کچھ اوراور رشک سے جلنے کا مزہ ہے کچھ اورYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  48. امکان طلب سے کوئی آگاہ تو ہومنزل کا تہ دل سے ہوا خواہ تو ہوYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  49. ایسا نہ ہو حق کا سامنا ہو جائےسارا یہ طلسمات ہوا ہو جائےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  50. بادل کو لگی کھلتے برستے کچھ دیردل کو نہ لگی اجڑتے بستے کچھ دیرYaas Yagana Changezi (1884–1956)