صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیں

Yaas Yagana Changezi (1884–1956)

صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیں

اک وسعت موہوم ہے حد کچھ بھی نہیں

کیا جانئے کیا ہے عالم کون و فساد

دعوے تو بہت کچھ ہیں سند کچھ بھی نہیں