کوئی تجھ کو پکارتا جاتا ہے

Yaas Yagana Changezi (1884–1956)

کوئی تجھ کو پکارتا جاتا ہے

کوئی ہمت ہی ہارتا جاتا ہے

کوئی تہہ کو سدھارتا جاتا ہے

دریا ہے کہ موجیں مارتا جاتا ہے