پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے

Yaas Yagana Changezi (1884–1956)

پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے

پیاس آگ میں کود کر بجھانے والے

دھن کے پکے تھے گرتے پڑتے پہنچے