کیوں مطلب ہستی و عدم کھل جاتا

Yaas Yagana Changezi (1884–1956)

کیوں مطلب ہستی و عدم کھل جاتا

کیوں راز طلسم کیف و کم کھل جاتا

کانوں نے جو سن لیا وہی کیا کم ہے

آنکھیں کھلتیں تو سب بھرم کھل جاتا