Poetry
Hazaj Musaddas Mahzuf
ہزج مسدس محذوف- چراغوں کا گھرانا چل رہا ہےہوا سے دوستانہ چل رہا ہےRahat Indori (1950–2020)
- چراغوں کو اچھالا جا رہا ہےہوا پر رعب ڈالا جا رہا ہےRahat Indori (1950–2020)
- شجر ہیں اب ثمر آثار میرےچلے آتے ہیں دعویدار میرےRahat Indori (1950–2020)
- وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھاسمندر آبرو کھونے لگا تھاRahat Indori (1950–2020)
- عجب سی بے کلی سے چور کوئیکچھ اپنے دل سے ہے مجبور کوئیSabiha Saba (b. 1950)
- قلم کو اس لئے تلوار کرناکہ بڑھ کے ظلم پر ہے وار کرناSabiha Saba (b. 1950)
- اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھےاجالے سیر پر نکلے ہوئے تھےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- اندھیرے ڈھونڈنے نکلے کھنڈر کیوںخدا جانے ہوئے یہ در بدر کیوںP P Srivastava Rind (b. 1950)
- تجھے میں بھول جانا چاہتا ہوںیوں دل کو آزمانا چاہتا ہوںGhayas Anjum (b. 1950)
- بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیارہ و رسم محبت چھوڑ دی کیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کہیں ایسا نہ ہو دامن جلا لوہمارے آنسوؤں پر خاک ڈالوLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- نہ اب مجھ کو صدا دو تھک گیا میںتمہی جاؤ ارادو تھک گیا ہوںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- قیامت تک رہے گی روح آبادمحبت ہے تو ہم زندہ رہیں گےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- افق تک میرا صحرا کھل رہا ہےکہیں دریا سے دریا مل رہا ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
- رسائی کا قرینہ آنکھ میں ہےزہے قسمت مدینہ آنکھ میں ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
- قیاس و یاس کی حد سے نکل کرچلی جاؤں کہیں چہرہ بدل کرYasmeen Hameed (b. 1951)
- خدا کی بے رخی پر رو رہی ہےدعا مجھ سے لپٹ کر رو رہی ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سمندر میں کھڑے ہو رو رہے ہویہ کیسی میلی چادر دھو رہے ہوParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دےنشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھناکسی دربار سے رشتے نہ رکھناTabish Mehdi (b. 1951)
- جہان دل میں سناٹا بہت ہےسمندر آج کل پیاسا بہت ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کیامیر شہر سے یاری نہیں کیTabish Mehdi (b. 1951)
- اب اتنی سادگی لائیں کہاں سےزمیں کی خیر مانگیں آسماں سےParveen Shakir (1952–1994)
- بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کےہماری زندگی برباد کر کےParveen Shakir (1952–1994)
- کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہےوہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- بہت دشوار ہے رستہ ہمارانہیں کر پاؤ گے پیچھا ہماراFahmi Badayuni (b. 1952)
- بھری محفل میں تنہا دیکھنا ہےاسے اس بار اتنا دیکھنا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- پرندے سہمے سہمے اڑ رہے ہیںبرابر میں فرشتے اڑ رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- ذرا محتاط ہونا چاہیے تھابغیر اشکوں کے رونا چاہیے تھاFahmi Badayuni (b. 1952)
- سمندر الٹا سیدھا بولتا ہےسلیقے سے تو پیاسا بولتا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- سہارے جانے پہچانے بنا لوںستونوں پر ترے شانے بنا لوںFahmi Badayuni (b. 1952)
- کبھی آواز دے اک بار کوئیاگر موجود ہے اس پار کوئیFahmi Badayuni (b. 1952)
- نمک کی روز مالش کر رہے ہیںہمارے زخم ورزش کر رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- نہیں ہو تم تو ایسا لگ رہا ہےکہ جیسے شہر میں کرفیو لگا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- وفا داری غنیمت ہو گئی کیامحبت بھی مروت ہو گئی کیاFahmi Badayuni (b. 1952)
- بدن کا ذکر باطل ہے تو آؤبنا سر پیر کی باتیں کریں گےFahmi Badayuni (b. 1952)
- پریشاں ہے وہ جھوٹا عشق کر کےوفا کرنے کی نوبت آ گئی ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- ٹہلتے پھر رہے ہیں سارے گھر میںتری خالی جگہ کو بھر رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- یہ کیسی بد دعا دی ہے کسی نےسمندر ہوں مگر کھارا ہوا ہوںDeepak Purohit (b. 1954)
- اجالوں کا اگر دشمن نہیں ہےاندھیروں سے بھی وہ بد ظن نہیں ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
- سفر ٹھہرے تو کچھ منزل کی سوچوںذہن خاموش ہو تو دل کی سوچوںMadho Kaushik (b. 1954)
- کوئی رشتہ پرانا ہو گیا ہےتمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہےMadho Kaushik (b. 1954)
- ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کیکہانی تو سناؤ دل جلوں کیMadho Kaushik (b. 1954)
- میسر آ گئی ہے آگہی کیارکے ہیں لوگ منزل آ گئی کیاSaba Bilgrami (b. 1955)
- حیا تو اس سے شرماتی بہت ہےپڑوسن میری اتراتی بہت ہےParveen Kaif (b. 1956)
- سکندر کے سفر کی بات نکلےکفن میں سے ہوں خالی ہاتھ نکلےParveen Kaif (b. 1956)
- لبوں سے آشنائی دے رہا ہےوہ لذت انتہائی دے رہا ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- یقیناً ہم کو گھر اچھے لگے تھےمکیں پہلے مگر اچھے لگے تھےObaid Siddiqi (1957–2020)
- اگر کچھ سیکھنا ہے زندگی سےچلو آغاز کر لیں آج ہی سےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- چراغوں کو بجھانا چاہتا ہےاندھیرا مسکرانا چاہتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)