Poetry
Hazaj Musaddas Mahzuf
ہزج مسدس محذوف- متاعِ دل سے خالی ہوگئے ہیںترے در کے سوالی ہو گئے ہیںSaghar Siddiqui (1928–1974)
- ادھوری ناشنیدہ داستاں ہوںکہ شاید میں سماعت پر گراں ہوںGhani Ejaz (1929–2010)
- تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیںسفر جاری قدم ٹوٹے ہوئے ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- مسرت کی فراوانی کے دن ہیںمحبت کی جہاں بانی کے دن ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- غم دل کو بدل جانے کی ضد ہےمگر خوشیوں کو ٹل جانے کی ضد ہےDaur Afridi (1930–1992)
- وہ تیرے غم کو پہچانے نہیں ہیںابھی اپنوں میں بیگانے نہیں ہیںDaur Afridi (1930–1992)
- یقیناً کوئی گہرا رابطہ ہےوہ جو مڑ مڑ کے مجھ کو دیکھتا ہےYas Chandpuri (b. 1930)
- خود اپنی ذلت و خواری نہ کرناکسی کم ظرف سے یاری نہ کرناRaees Rampuri (b. 1930)
- سڑک پر ریل تیزی سے چلی ہےہوا دیکھو تو پانی سے جلی ہےVaqar Khaleel (b. 1930)
- مناتا موج گر چوہا میں ہوتاسحر سے شام تک پھرتا ہی رہتاVaqar Khaleel (b. 1930)
- یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائےوہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائےAhmad Faraz (1931–2008)
- ابھی فرمان آیا ہے وہاں سےکہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سےJaun Elia (1931–2002)
- بجا ارشاد فرمایا گیا ہےکہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہےJaun Elia (1931–2002)
- بڑا احسان ہم فرما رہے ہیںکہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- بہت دل کو کشادہ کر لیا کیازمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیاJaun Elia (1931–2002)
- بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بنسراپا آرزو ہوں آرزو بنJaun Elia (1931–2002)
- چلو باد بہاری جا رہی ہےپیا جی کی سواری جا رہی ہےJaun Elia (1931–2002)
- سمجھ میں زندگی آئے کہاں سےپڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سےJaun Elia (1931–2002)
- عجب حالت ہماری ہو گئی ہےیہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہےJaun Elia (1931–2002)
- کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیوتو اس بستی میں رہیو پر نہ رہیوJaun Elia (1931–2002)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہمبچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہمJaun Elia (1931–2002)
- یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیامحبت زک اٹھا کر آئی تھی کیاJaun Elia (1931–2002)
- یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیامحبت زہر کھا کے آئی تھی کیاJaun Elia (1931–2002)
- ہوا سے زرد پتے گر رہے ہیںکتابوں کے ورق بکھرے پڑے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
- جدھر دیکھو لہو بکھرا ہوا ہےنشانہ کون گولی کا بنا ہےParkash Fikri (1931–2008)
- روایت تھی یہ سمجھوتا نہیں تھامیں سب کا تھا کوئی میرا نہیں تھاZafar Naseemi (b. 1931)
- چلو اتنی تو آسانی رہے گیملیں گے اور پریشانی رہے گیZafar Iqbal (b. 1932)
- نہ جانے کتنی صدیوں سے زمانہمثال موج بہتا آ رہا ہےDaud Ghazi (1932–1963)
- بہت نیچی لگیں اونچائیاں بھیسمندر سے گئیں گہرائیاں بھیVaqar Siddiqui (b. 1932)
- جسے دیکھو درندہ سا لگے ہےیہ سارا شہر تو صحرا لگے ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- ملے فرصت تو سن لینا کسی دنمرا قصہ نہایت مختصر ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- سکوں پرور ہے جذباتی نہیں ہےمرا ہمدم خرافاتی نہیں ہےIbrat Bahraichi (1933–2021)
- مرے ہی دل کو اپنا گھر سمجھنااسے تم تاج سے بہتر سمجھناIbrat Bahraichi (1933–2021)
- نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہےگھٹا میں چاند آیا جا رہا ہےShakeb Jalali (1934–1966)
- سمندر کا تماشہ کر رہا ہوںمیں ساحل بن کے پیاسا مر رہا ہوںBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہےپریشانی کی رت جاتی نہیں ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- گریباں کو رفو کرنے لگے ہیںنوازش خوب رو کرنے لگے ہیںJahangeer Khan Jauhar (1934–2014)
- بلندی سے اتارے جا چکے ہیںزمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- بصارت کھو گئی ہے روشنی میںمزہ آنے لگا ہے تیرگی میںJagdish Prakash (b. 1935)
- فقیرانہ صدا خاموش کیوں ہےقلندر کی نوا خاموش کیوں ہےG R Kanwal (b. 1935)
- اندھیری رات کی اس رہ گزر پرہمارے ساتھ کوئی اور بھی تھاShahryar (1936–2012)
- یہاں کیا ہے برہنہ تیرگی ہےخلا ہے آہٹیں ہیں تشنگی ہےShahryar (1936–2012)
- الف لفظ و معانی سے مبراالف تنہائی کا روشن ہیولیٰAdil Mansuri (1936–2008)
- اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانےوہ شمعیں اور بھڑکیں اس بہانےParveen Fana Syed (1936–2010)
- بظاہر یہ جو بیگانے بہت ہیںہمارے جانے پہچانے بہت ہیںParveen Fana Syed (1936–2010)
- تمہارا ذوق ہی کامل نہیں ہےوگرنہ کوئی شے مشکل نہیں ہےParveen Fana Syed (1936–2010)
- جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہےہماری زندگی کیا زندگی ہےParveen Fana Syed (1936–2010)
- سنوارے آخرت یا زندگی کوکہاں اتنی بھی مہلت آدمی کوParveen Fana Syed (1936–2010)
- ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھوابھی یارو سفر کی ابتدا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوںخلاؤں میں بکھرتا جا رہا ہوںQaisar Siddiqi (1937–2018)