بہت نیچی لگیں اونچائیاں بھی
Vaqar Siddiqui (b. 1932)بہت نیچی لگیں اونچائیاں بھی
سمندر سے گئیں گہرائیاں بھی
کبھی ہنگامے بھی اچھے لگے ہیں
کبھی اچھی لگیں تنہائیاں بھی
بھری دوپہر میں چلنا کٹھن ہے
سمٹ کر رہ گئیں پرچھائیاں بھی
کہیں جشن طرب ماتم کدہ ہے
کہیں گریہ کناں تنہائیاں بھی
نکھر کر اک کرشمہ ہو گئی ہیں
تمہارے حسن کی رعنائیاں بھی
کوئی سورج نکلتا کیوں نہیں ہے
سحر لیتی نہیں انگڑائیاں بھی