Poetry
Hazaj Musaddas Mahzuf
ہزج مسدس محذوف- اہے تازہ چمن پیوستہ میراشگفتہ ہے سدا گلدستہ میراIbn-e-Nashati (b. 1655)
- ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہےطلب میں ہوں تمنا کی قسم ہےWali Dakani (1667–1707)
- چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میںکہ تا جاؤں پری رو کی گلی میںWali Dakani (1667–1707)
- شراب شوق سیں سرشار ہیں ہمکبھو بے خود کبھو ہشیار ہیں ہمWali Dakani (1667–1707)
- کمر اس دل ربا کی دل ربا ہےنگہ اس خوش ادا کی خوش ادا ہےWali Dakani (1667–1707)
- اگر دل عشق سیں غافل رہا ہےتو اپنے فن میں نا قابل رہا ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- بہار آئی گلی کی طرح دل کھولگلوں کی بھانت ہنس بلبل کے جوں بولShah Mubarak Abru (1683–1733)
- تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہےکہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دلکہ ہم سیں ہو گیا ہے بے وفا دلShah Mubarak Abru (1683–1733)
- نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہےمسافر دشمنوں میں آ پڑا ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- نہیں گھر میں فلک کے دل کشائیکہاں ہوتی ہے یہاں میری سمائیShah Mubarak Abru (1683–1733)
- سجن مجھ پر بہت نا مہرباں ہےکہاں وہ عاشقاں کا قدر داں ہےFaez Dehlvi (1690–1738)
- مرے دل بیچ نقش نازنیں ہےمگر یہ دل نہیں یارو نگیں ہےFaez Dehlvi (1690–1738)
- ترا دل یار اگر مائل کرے ہےتو جان اب تجھ کو صاحب دل کرے ہےShah Hatim (1699–1783)
- کوئی دیتا نہیں ہے داد بے دادکوئی سنتا نہیں فریاد فریادShah Hatim (1699–1783)
- کہیں وہ صورت خوباں ہوا ہےکہیں وہ عاشق حیراں ہوا ہےShah Hatim (1699–1783)
- مجھے کیا دیکھ کر تو تک رہا ہےترے ہاتھوں کلیجہ پک رہا ہےShah Hatim (1699–1783)
- نظر سے جب اکستا ہے مرا دلتو جا کاکل میں بستا ہے مرا دلShah Hatim (1699–1783)
- نہ اتنا چاہئے اے پر شکم خوابکہ تیرے حق میں ہے ظالم ستم خوابShah Hatim (1699–1783)
- نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھاجو سودا اپنے دیوانے میں دیکھاShah Hatim (1699–1783)
- نہ تن میں استخوان نے رگ رہی ہےلبوں پر کیونکہ جان اب لگ رہی ہےShah Hatim (1699–1783)
- ہولی (شیخ ظہور الدین حاتم)Shah Hatim (1699–1783)
- ادائے دل فریب سرو قامتقیامت ہے قیامت ہے قیامتSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جاسراپا موم ہو یا سنگ ہو جاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کہاں ہے گل بدن موہن پیاراکہ جیوں بلبل ہے نالاں دل ہماراSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کیا غم نے سرایت بے نہایتکروں کس سیں شکایت بے نہایتSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- مرا دل نہیں ہے میرے ہات تم بنخوش آتی نہیں کسی کی بات تم بنSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوشبلا سے تیری میں نا خوش ہوں یا خوشTaban Abdul Hai (1715–1749)
- قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہےتصور بھی چمن کا ہم کو بس ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہیں تم مانتے میرا کہا جیکبھی تو ہم بھی سمجھیں گے بھلا جیTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پرتری صورت مجھے آتی ہے جب یادTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہیں بند قبا میں تن ہماراہے عریانی ہی پیراہن ہماراQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیںہم اس بہروپ کو پہچانتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہےپر اتنا بھی تو ناکارا نہیں ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- ادھر آ کر شکار افگن ہمارامشبک کر گیا ہے تن ہماراMir Taqi Mir (1723–1810)
- ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہےہماری خاک پر بھی رو گیا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیںیہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل بیتاب آفت ہے بلا ہےجگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میںبندھی مٹھی چلا جا اس چمن میںMir Taqi Mir (1723–1810)
- سحر گہہ عید میں دور سبو تھاپر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- سخن مشتاق ہے عالم ہمارابہت عالم کرے گا غم ہماراMir Taqi Mir (1723–1810)
- فلک کرنے کے قابل آسماں ہےکہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والےگلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تککہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تکMir Taqi Mir (1723–1810)
- نہ اک یعقوب رویا اس الم میںکنواں اندھا ہوا یوسف کے غم میںMir Taqi Mir (1723–1810)
- نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہمگئے گزرے ہیں آخر ایسے کیا ہمMir Taqi Mir (1723–1810)
- سنا ہے چاہ کا دعویٰ تمہاراکہو جو کچھ کہ چاہو مہرباں ہوMir Taqi Mir (1723–1810)
- نہ آیا وہ تو کیا ہم نیم جاں بھیبغیر اس کے ملے دنیا سے جاویںMir Taqi Mir (1723–1810)
- نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکانمونہ ہے یہ آشوب و بلا کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہانی رات تھی آل نبی کیمراد جان زہرا دل جلی کیMir Taqi Mir (1723–1810)