نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکا

Mir Taqi Mir (1723–1810)

نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکا

نمونہ ہے یہ آشوب و بلا کا

کرو دن ہی سے رخصت ورنہ شب کو

نہ سونے دے گا شور اس بے نوا کا