کہیں وہ صورت خوباں ہوا ہے

Shah Hatim (1699–1783)

کہیں وہ صورت خوباں ہوا ہے

کہیں وہ عاشق حیراں ہوا ہے

کہیں گل ہے کہیں بلبل کہیں باغ

کہیں درد و کہیں درماں ہوا ہے

کہیں مست و کہیں ہشیار ہے وہ

کہیں دانا کہیں ناداں ہوا ہے

کہیں خاک و کہیں باد و کہیں آب

کہیں وہ آتش سوزاں ہوا ہے

کہیں لفظ و کہیں معنی کہیں حرف

کہیں پوتھی کہیں قرآں ہوا ہے

کہیں نور و کہیں ایمن کہیں طور

کہیں موسیٰ کہیں عمراں ہوا ہے

کہیں مسجد کہیں بت خانہ ہے وہ

کہیں کفر و کہیں ایماں ہوا ہے

کہیں خلق او کہیں خلاق عالم

کہیں ظاہر کہیں پنہاں ہوا ہے

کہیں حاتمؔ کہیں جاں بخش حاتمؔ

کہیں حاتمؔ کا جا مہماں ہوا ہے