اہے تازہ چمن پیوستہ میرا

Ibn-e-Nashati (b. 1655)

اہے تازہ چمن پیوستہ میرا

شگفتہ ہے سدا گلدستہ میرا

لطافت میں ہے جیوں خوباں کی ابرو

ہر یک مصرع جو ہے برجستہ میرا

دیا ہے جگ کوں رونق یک طرف تے

ہے یو بازار جو دو رستہ میرا

بوہت خون جگر کھا کو کھلیا گل

کلی نمنے جو تھا فن بستہ میرا

کرم سوں حق کے پایا آج راحت

فلک سوں تھا جو خاطر خستہ میرا