Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Salim

ہزج مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. ہمیں جیسے بنا پتوار دریا پار کرتے ہیںوہ کیا موجوں سے ٹکرائیں گے جو پانی سے ڈرتے ہیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
  2. تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہےانا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
  3. کہیں منزل کہیں رستہ پرانا چھوٹ جاتا ہےسفر میں زیست کے منظر سہانا چھوٹ جاتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
  4. ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہےمرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
  5. یہ موسم ہے امنگوں کا ترنگوں کا زمانہ ہےچمن کے پھول ہیں ہم کام اپنا مسکرانا ہےZafar Kamali (b. 1959)
  6. ہزاروں قمقموں سے جگمگاتا ہے یہ گھر لیکنجو من میں جھانک کے دیکھوں تو اب بھی روشنی کم ہےAanis Moin (1960–1986)
  7. لہو کی موج میں جینا مرے حصے میں آیا ہےبھنور بنتا ہوا دریا مرے حصے میں آیا ہےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  8. یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلےتمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلےIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
  9. سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیںمگر ظل الٰہی نے تو لشکر بیچ ڈالے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  10. اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنابہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  11. اٹھا لایا کتابوں سے وہ اک الفاظ کا جنگلسنا ہے اب مری خاموشیوں کا ترجمہ ہوگاNafas Ambalvi (b. 1961)
  12. تو دریا ہے تو ہوگا ہاں مگر اتنا سمجھ لیناترے جیسے کئی دریا مری آنکھوں میں رہتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  13. ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینالگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  14. ہماری زندگی جیسے کوئی شب بھر کا جلسہ ہےسحر ہوتے ہی خوابوں کے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  15. ہمیں دنیا فقط کاغذ کا اک ٹکڑا سمجھتی ہےپتنگوں میں اگر ڈھل جائیں ہم تو آسماں چھو لیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  16. تصور میں مرے ایسے کوئی چہرہ نکلتا ہےکہ سوکھی شاخ پر جیسے ہرا پتہ نکلتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  17. تو اب حالت میں اپنی یوں بھی تبدیلی نہیں ہوتییہ مٹی خون بھی پی کر کبھی گیلی نہیں ہوتیObaidur Rahman (1961–2014)
  18. ہمیں تو خواب کا اک شہر آنکھوں میں بسانا تھااور اس کے بعد مر جانے کا سپنا دیکھ لینا تھاObaidur Rahman (1961–2014)
  19. جب اپنی بے کلی سے بے خودی سے کچھ نہیں ہوتاپکاریں کیوں کسی کو ہم کسی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  20. کوئی جب شہر سے جائے تو رونق روٹھ جاتی ہےکسی کی شہر میں موجودگی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  21. جو سایہ سا منور تھا مرے ساجن کا تھوڑا تھامقدر یوں ابھی روشن مرے آنگن کا تھوڑا تھاRaakesh ulfat (b. 1961)
  22. مرا فخر حیاتی آج بھی کردار ہے میرااسی نگ سے مزین طرۂ دستار ہے میراRaakesh ulfat (b. 1961)
  23. یہ کیوں سوچیں کہ وہ داد وفا دیتے تو کیا ہوتاجو رونے پر بھی پابندی لگا دیتے تو کیا ہوتاDaulat Ram Sabir Panipati (b. 1961)
  24. خود اپنی کاوشوں سے آب و دانہ ڈھونڈ لیتے ہیںپرندے اپنے رہنے کا ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیںQaisar Azeez (b. 1962)
  25. کبھی سب چھین لیتا ہوں کبھی نعمت لٹاتا ہوںمجھے سب وقت کہتے ہیں میں انگلی پر نچاتا ہوںPallavi Mishra (b. 1962)
  26. امنگیں دل میں ہوں صحرا بھی عالیشان لگتا ہےبجھے دل کو سجی محفل کا در ویران لگتا ہےDeepak Danish (b. 1962)
  27. تمہاری یاد یوں احساس تنہائی بڑھاتی ہےکہ جیسے قیمتیں چیزوں کی مہنگائی بڑھاتی ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
  28. کئی جلوے تری پہچان کے دھوکے سے نکلے ہیںسیاست سینکڑوں چہرے ترے چہرے سے نکلے ہیںHafiz Karnataki (b. 1964)
  29. فضا دشوار جاں ہو تو محبت اور بڑھتی ہےکوئی جب راستہ روکے تو ہمت اور بڑھتی ہےNaeem Sahil (b. 1964)
  30. سفر میں اب نہیں پر آبلہ پائی نہیں جاتیہماری راستوں سے یوں شناسائی نہیں جاتیVikas Joshi Wahid (b. 1965)
  31. محبت میں نہ جاں کو جاں نہ دل کو دل سمجھتے ہیںاسے آساں بناتے ہیں جسے مشکل سمجھتے ہیںKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
  32. کہیں چندن مہکتا ہے کہیں کیسر مہکتا ہےیہ خوشبو ہے بزرگوں کی جو میرا گھر مہکتا ہےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
  33. میں یوں ہی مسکرانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوںمیں کافر ہوں خدا کے در کبھی سجدہ نہیں کرتاChandra Shekhar Varma (b. 1967)
  34. تکلم ہم سے کرتا ہے تو یوں جیسے شہنشہ کومحبت کا کوئی نسخہ قلندر پیش کرتا ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
  35. مجھے خاموشیاں پڑھنے کا فن آتا تو پڑھ لیتاتمہاری جھیل سی خاموش آنکھوں کی پشیمانیLatif Shah Shahid (b. 1968)
  36. مری آنکھوں میں کیلیں ٹھونک دو ہونٹوں کو سلوا دوبصیرت جرم ہے میرا صداقت میری عادت ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
  37. سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوںبڑی مشکل سے میں کردار کے اندر سے نکلی ہوںYasmeen Sahar (b. 1968)
  38. عقب میں درمیاں اور سامنے والی نشستوں پرجہاں دیکھا وہاں تھے آپ ہی ساری نشستوں پرEhtisham Hasan (b. 1969)
  39. اگر وہ جھوٹ بھی بولے تو ہم سچ مان لیتے ہیںنقابوں میں چھپے چہروں کو ہم پہچان لیتے ہیںGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
  40. تری یادوں کی نقاشی کھرچ کر پھینک آئے ہیںجھلستی ریت پر ہم اک سمندر پھینک آئے ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
  41. زمین و آسماں کی ساری پرتیں چیخ اٹھتی ہیںوہ واحد لم یزل ہے سب دلیلیں چیخ اٹھتی ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
  42. وہ پتھرائی سی آنکھوں کو بھی کاجل بھیج دیتا ہےسلگتی دوپہر میں جیسے بادل بھیج دیتا ہےNadeem Farrukh (b. 1970)
  43. نزاکت ہے بہت اس میں مگر یہ جانتا ہوں میںمحبت جس کو ہو جاتی ہے اردو سیکھ جاتا ہےObaid Azam Azmi (b. 1970)
  44. دھڑکتے سانس لیتے رکتے چلتے میں نے دیکھا ہےکوئی تو ہے جسے اپنے میں پلتے میں نے دیکھا ہےAalok Shrivastav (b. 1971)
  45. وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہےاکیلا جب بھی ہوتا ہوں مجھے گھر یاد آتا ہےAalok Shrivastav (b. 1971)
  46. ہمیشہ زندگی کی ہر کمی کو جیتے رہتے ہیںجسے ہم جی نہیں پاے اسی کو جیتے رہتے ہیںAalok Shrivastav (b. 1971)
  47. کوئی باہر سے کوئی اندر اندر ٹوٹ جاتا ہےجب انساں آتا ہے گردش کی زد پر ٹوٹ جاتا ہےQamar Anjum (b. 1971)
  48. محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہےاگر مستی نہ ہو تو زندگی مٹی سے سستی ہےQamar Anjum (b. 1971)
  49. مصیبت کے بھنور میں بھی شناور وہ سنبھلتا ہےیقیں ہو جس کو خود پر وہ تلاطم سے نکلتا ہےEjaz Parwana (b. 1972)
  50. ملا قطرہ تو کرتے کیوں شکایت تم مقدر کیگلہ قسمت کا ہے پھر کیوں نہ کوشش کی سمندر کیEjaz Parwana (b. 1972)