Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- ہمیں جیسے بنا پتوار دریا پار کرتے ہیںوہ کیا موجوں سے ٹکرائیں گے جو پانی سے ڈرتے ہیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہےانا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کہیں منزل کہیں رستہ پرانا چھوٹ جاتا ہےسفر میں زیست کے منظر سہانا چھوٹ جاتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہےمرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
- یہ موسم ہے امنگوں کا ترنگوں کا زمانہ ہےچمن کے پھول ہیں ہم کام اپنا مسکرانا ہےZafar Kamali (b. 1959)
- ہزاروں قمقموں سے جگمگاتا ہے یہ گھر لیکنجو من میں جھانک کے دیکھوں تو اب بھی روشنی کم ہےAanis Moin (1960–1986)
- لہو کی موج میں جینا مرے حصے میں آیا ہےبھنور بنتا ہوا دریا مرے حصے میں آیا ہےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلےتمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلےIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیںمگر ظل الٰہی نے تو لشکر بیچ ڈالے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنابہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- اٹھا لایا کتابوں سے وہ اک الفاظ کا جنگلسنا ہے اب مری خاموشیوں کا ترجمہ ہوگاNafas Ambalvi (b. 1961)
- تو دریا ہے تو ہوگا ہاں مگر اتنا سمجھ لیناترے جیسے کئی دریا مری آنکھوں میں رہتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینالگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہماری زندگی جیسے کوئی شب بھر کا جلسہ ہےسحر ہوتے ہی خوابوں کے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہمیں دنیا فقط کاغذ کا اک ٹکڑا سمجھتی ہےپتنگوں میں اگر ڈھل جائیں ہم تو آسماں چھو لیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- تصور میں مرے ایسے کوئی چہرہ نکلتا ہےکہ سوکھی شاخ پر جیسے ہرا پتہ نکلتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- تو اب حالت میں اپنی یوں بھی تبدیلی نہیں ہوتییہ مٹی خون بھی پی کر کبھی گیلی نہیں ہوتیObaidur Rahman (1961–2014)
- ہمیں تو خواب کا اک شہر آنکھوں میں بسانا تھااور اس کے بعد مر جانے کا سپنا دیکھ لینا تھاObaidur Rahman (1961–2014)
- جب اپنی بے کلی سے بے خودی سے کچھ نہیں ہوتاپکاریں کیوں کسی کو ہم کسی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- کوئی جب شہر سے جائے تو رونق روٹھ جاتی ہےکسی کی شہر میں موجودگی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- جو سایہ سا منور تھا مرے ساجن کا تھوڑا تھامقدر یوں ابھی روشن مرے آنگن کا تھوڑا تھاRaakesh ulfat (b. 1961)
- مرا فخر حیاتی آج بھی کردار ہے میرااسی نگ سے مزین طرۂ دستار ہے میراRaakesh ulfat (b. 1961)
- یہ کیوں سوچیں کہ وہ داد وفا دیتے تو کیا ہوتاجو رونے پر بھی پابندی لگا دیتے تو کیا ہوتاDaulat Ram Sabir Panipati (b. 1961)
- خود اپنی کاوشوں سے آب و دانہ ڈھونڈ لیتے ہیںپرندے اپنے رہنے کا ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیںQaisar Azeez (b. 1962)
- کبھی سب چھین لیتا ہوں کبھی نعمت لٹاتا ہوںمجھے سب وقت کہتے ہیں میں انگلی پر نچاتا ہوںPallavi Mishra (b. 1962)
- امنگیں دل میں ہوں صحرا بھی عالیشان لگتا ہےبجھے دل کو سجی محفل کا در ویران لگتا ہےDeepak Danish (b. 1962)
- تمہاری یاد یوں احساس تنہائی بڑھاتی ہےکہ جیسے قیمتیں چیزوں کی مہنگائی بڑھاتی ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- کئی جلوے تری پہچان کے دھوکے سے نکلے ہیںسیاست سینکڑوں چہرے ترے چہرے سے نکلے ہیںHafiz Karnataki (b. 1964)
- فضا دشوار جاں ہو تو محبت اور بڑھتی ہےکوئی جب راستہ روکے تو ہمت اور بڑھتی ہےNaeem Sahil (b. 1964)
- سفر میں اب نہیں پر آبلہ پائی نہیں جاتیہماری راستوں سے یوں شناسائی نہیں جاتیVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- محبت میں نہ جاں کو جاں نہ دل کو دل سمجھتے ہیںاسے آساں بناتے ہیں جسے مشکل سمجھتے ہیںKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- کہیں چندن مہکتا ہے کہیں کیسر مہکتا ہےیہ خوشبو ہے بزرگوں کی جو میرا گھر مہکتا ہےChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- میں یوں ہی مسکرانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوںمیں کافر ہوں خدا کے در کبھی سجدہ نہیں کرتاChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- تکلم ہم سے کرتا ہے تو یوں جیسے شہنشہ کومحبت کا کوئی نسخہ قلندر پیش کرتا ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- مجھے خاموشیاں پڑھنے کا فن آتا تو پڑھ لیتاتمہاری جھیل سی خاموش آنکھوں کی پشیمانیLatif Shah Shahid (b. 1968)
- مری آنکھوں میں کیلیں ٹھونک دو ہونٹوں کو سلوا دوبصیرت جرم ہے میرا صداقت میری عادت ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوںبڑی مشکل سے میں کردار کے اندر سے نکلی ہوںYasmeen Sahar (b. 1968)
- عقب میں درمیاں اور سامنے والی نشستوں پرجہاں دیکھا وہاں تھے آپ ہی ساری نشستوں پرEhtisham Hasan (b. 1969)
- اگر وہ جھوٹ بھی بولے تو ہم سچ مان لیتے ہیںنقابوں میں چھپے چہروں کو ہم پہچان لیتے ہیںGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- تری یادوں کی نقاشی کھرچ کر پھینک آئے ہیںجھلستی ریت پر ہم اک سمندر پھینک آئے ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
- زمین و آسماں کی ساری پرتیں چیخ اٹھتی ہیںوہ واحد لم یزل ہے سب دلیلیں چیخ اٹھتی ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
- وہ پتھرائی سی آنکھوں کو بھی کاجل بھیج دیتا ہےسلگتی دوپہر میں جیسے بادل بھیج دیتا ہےNadeem Farrukh (b. 1970)
- نزاکت ہے بہت اس میں مگر یہ جانتا ہوں میںمحبت جس کو ہو جاتی ہے اردو سیکھ جاتا ہےObaid Azam Azmi (b. 1970)
- دھڑکتے سانس لیتے رکتے چلتے میں نے دیکھا ہےکوئی تو ہے جسے اپنے میں پلتے میں نے دیکھا ہےAalok Shrivastav (b. 1971)
- وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہےاکیلا جب بھی ہوتا ہوں مجھے گھر یاد آتا ہےAalok Shrivastav (b. 1971)
- ہمیشہ زندگی کی ہر کمی کو جیتے رہتے ہیںجسے ہم جی نہیں پاے اسی کو جیتے رہتے ہیںAalok Shrivastav (b. 1971)
- کوئی باہر سے کوئی اندر اندر ٹوٹ جاتا ہےجب انساں آتا ہے گردش کی زد پر ٹوٹ جاتا ہےQamar Anjum (b. 1971)
- محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہےاگر مستی نہ ہو تو زندگی مٹی سے سستی ہےQamar Anjum (b. 1971)
- مصیبت کے بھنور میں بھی شناور وہ سنبھلتا ہےیقیں ہو جس کو خود پر وہ تلاطم سے نکلتا ہےEjaz Parwana (b. 1972)
- ملا قطرہ تو کرتے کیوں شکایت تم مقدر کیگلہ قسمت کا ہے پھر کیوں نہ کوشش کی سمندر کیEjaz Parwana (b. 1972)