Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتانظر ہمیں کوئی اہل نظر نہیں آتاLais Quraishi (b. 1922)
- یہ آرزو ہیں ہم کوئی آرزو کرتےاسیر خود کو نہ ہم دام رنگ و بو کرتےLais Quraishi (b. 1922)
- اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میںخوشی کے پھول بھی تو ہیں اسی کے دامن میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- جنوں بغیر کبھی آگہی نہیں ہوتیجلے نہ شمع تو کچھ روشنی نہیں ہوتیBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- گلوں کے دام محبت میں آ رہا ہوں میںفریب حسن مجازی کا کھا رہا ہوں میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- لٹا کے راہ محبت میں ہر خوشی میں نےلیا ہے غم کا سہارا ابھی ابھی میں نےSaba Afghani (1922–1976)
- اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہےکوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کیکہ رات سن نہ سکے ہم بھی دھڑکنیں دل کیUmmeed Fazli (1923–2005)
- وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہےبچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- نفس نفس میں نہاں اضطراب ہوتا ہےبلا کی چیز یہ دور شباب ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- حجاب بن کے وہ میری نظر میں رہتا ہےمجھی سے پردہ ہے میرے ہی گھر میں رہتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- میں تیرگی سے گزرتا ہوں روشنی کی طرحمجھے شعور ہے جینے کا آدمی کی طرحChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پروفاؔ کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پرVafa Malikpuri (1923–2003)
- کبھی چمن سے کبھی انجمن سے گزرے ہیںپڑا ہے وقت تو دار و رسن سے گزرے ہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
- مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میںمجھے پڑھو ورق مصحف وفا ہوں میںVafa Malikpuri (1923–2003)
- نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہےطلوع ہو چکا سورج مگر اندھیرا ہےVafa Malikpuri (1923–2003)
- نصیب اپنا ذرا آزما کے دیکھیں گےچراغ شوق ہوا میں جلا کے دیکھیں گےLalan Chaudhary (b. 1923)
- تمہارے گاؤں سے جو راستہ نکلتا ہےمیں بار بار اسی راستے گزرا ہوںHabib Tanvir (1923–2009)
- کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتےکہ ہم بھی قسمت مژگاں سنوارنے آتےAda Jafri (1924–2015)
- گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئیکھلا ہوا تھا دریچہ صبا نہیں آئیAda Jafri (1924–2015)
- حقیقتوں سے کبھی انحراف مت کیجےقصور جس کا ہو اس کو معاف مت کیجےGauhar Usmani (1924–2004)
- کبھی شعور کبھی دل کبھی سخن مہکےکہو وہ شعر کہ دنیائے فکر و فن مہکےGauhar Usmani (1924–2004)
- چلائے تیر ہیں کتنے جواب دیتا جاہمارے زخموں کا کچھ تو حساب دیتا جاUmar Quraishi (1924–2010)
- غم حیات ہے فکر معاش سے لوگوہمیں تو صدیوں سے اپنی تلاش ہے لوگوUmar Quraishi (1924–2010)
- جگر کے خون سے تزئین بال و پر کر دیچمن اسیر نے یوں زندگی بسر کر دیRabia Barni (b. 1924)
- گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانےخدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانےNasir Kazmi (1925–1972)
- ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جاناذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھیNasir Kazmi (1925–1972)
- خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نےبھروسہ کر لیا کاغذ کی ناؤ پر ہم نےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- خوشی کا دوسرا پہلو ہے اور غم کیا ہےنفس کی آمد و شد ہی تو ہے یہ دم کیا ہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- سمجھ کے سارے سہاروں کو رائیگاں ہم نےاتار پھینکا ہے کشتی کا بادباں ہم نےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کراگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کرQaisarul Jafri (1926–2005)
- مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرناجہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرناQaisarul Jafri (1926–2005)
- وہی شکست سفر کا نشاں ہے چہرے پربہت غبار پس کارواں ہے چہرے پرQaisarul Jafri (1926–2005)
- بہار آئے گی پھوٹے گی شاخ سے کونپلشکست برگ خزاں سے یقین ہوتا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- جہاں بھی خون ٹپکتا ہے سرفروشوں کابلند ہو کے وہ دھرتی گگن سے ملتی ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ رات مشعل ارماں جلانے آئی ہےمگر نظر میں اندھیرا سا چھا رہا ہے کیوںQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ سرخ جنگ جو برپا ہوئی ہے سرحد پریہ تیز آگ جو پھیلی ہے کوہساروں میںQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ کون لوگ سر میکدہ پہنچ آئےچھلک رہا ہے لہو ہی لہو ایاغوں سےQaisarul Jafri (1926–2005)
- تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھیقسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو توبہار لائی ہے کیسی بہار دیکھو توKaleem Aajiz (1926–2015)
- دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کااٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کاKaleem Aajiz (1926–2015)
- انہیں کے گیت زمانے میں گائے جائیں گےجو چوٹ کھائیں گے اور مسکرائے جائیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گاجو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گاKaleem Aajiz (1926–2015)
- بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھاعجیب رنگ میں گزرا ہوا زمانہ تھاSaadat Nazeer (b. 1926)
- وہ زندگی جو شب انتظار گزری تھیترے کرم سے بہت خوش گوار گزری تھیSaadat Nazeer (b. 1926)
- تمہارا دل تو ہمارے سبھاؤ جیسا ہےہٹا کے چہرے سے چہرہ دکھاؤ جیسا ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- جو مثل تیر چلا تھا کمان سا خم ہےنگاہ دوست میں تاثیر اسم اعظم ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- حصار کاسۂ سر توڑ کر نکل آئےطلب ہوئی تھی تو سجدوں کے پر نکل آئےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- غرور جلوۂ عرفاں ہے دیکھیے کیا ہوبڑے اندھیرے میں انساں ہے دیکھیے کیا ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- غرور ناز دکھا تجھ میں کتنا جوہر ہےمرا خلوص بھی دریا نہیں سمندر ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)