جہاں بھی خون ٹپکتا ہے سرفروشوں کا
Qaisarul Jafri (1926–2005)جہاں بھی خون ٹپکتا ہے سرفروشوں کا
بلند ہو کے وہ دھرتی گگن سے ملتی ہے
اڑے جہاں سے شہیدوں کے جسم کی خوشبو
بہار آ کے گلے اس چمن سے ملتی ہے
جو ساتھ لائے صلیب و کفن کی سوغاتیں
وہ موت ناز و ادا میں دلہن سے ملتی ہے
وفا بغیر لہو سرخ رو نہیں ہوتی
یہ راہ منزل دار و رسن سے ملتی ہے
نکھار دیتی ہے آئینہ جبین وطن
شعاع رنگ جو زخم بدن سے ملتی ہے
وہ روشنی جو لب زخم سے ابھرتی ہے
افق پہ ناچتی ہنستی کرن سے ملتی ہے
وہ سرخیٔ سر دامن جو ہو وطن کے لئے
جمال لالہ و سرو و سمن سے ملتی ہے
وہ موت جس سے مہکتے ہیں زندگی کے چمن
بڑے خلوص بڑے بانکپن سے ملتی ہے
حیات پھول بکھیرے تمہاری راہوں میں
کہ تم نے عید منائی ہے رزم گاہوں میں