Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- غنودگی سی رہی طاری عمر بھر ہم پریہ آرزو ہی رہی تھوڑی دیر سو لیتےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- نہ زہر خندہ لبوں پر، نہ آنکھ میں آنسونہ زخم ہائے دروں کو ہے جستجوئے مآلAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دےبسوں کے شور میں ریلوں کی گڑگڑاہٹ میںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- چمن میں گزری کہ صحرا کے درمیاں گزریتمہاری یاد سے خالی مگر کہاں گزریTahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)
- جو لوگ دشمن جاں تھے وہی سہارے تھےمنافعے تھے محبت میں نے خسارے تھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- عجب سرور ملا ہے مجھے دعا کر کےکہ مسکرایا خدا بھی ستارہ وا کر کےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤںندیمؔ کاش یہی ایک کام کر جاؤںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- وہ کوئی اور نہ تھا چند خشک پتے تھےشجر سے ٹوٹ کے جو فصل گل پہ روئے تھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- بہت شدید تشنج میں مبتلا لوگویہاں سے دور محبت کا ایک قریہ ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانےخمیدہ ہل کی یہ الھڑ جوان نور نظرAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرامجھے تلاش کروAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مجھے تو مژدۂ کیفیت دوامی دےمرے خدا مجھے اعزاز ناتمامی دےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نےجب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگہمیں تھا زعم بہار آفریدہ ہیں ہم لوگRaaz Muradabadi (1916–1982)
- ترے خیال کی جنت میں کھو گیا ہوں میںاب اپنے آپ کو رہ رہ کے ڈھونڈھتا ہوں میںIbraheem Khaleel (1916–1992)
- یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیںہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیںKaif Bhopali (1917–1991)
- وہ خاک بوئے تھے حالات نے شرر جس میںاب اس میں پھول تمنا کے کھلنے والے ہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤںمزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤںIbraheem Hosh (1918–1988)
- جو چپ لگاؤں تو صحرا کی خامشی جاگےجو مسکراؤں تو آزردگی بھی شرمائےIbraheem Hosh (1918–1988)
- تمام تر اسی خانہ خراب جیسا ہےمرے لہو کا نشہ بھی شراب جیسا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- حدود جلوۂ کون و مکاں میں رہتے ہیںنہ جانے اہل نظر کس جہاں میں رہتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- خیال جبہ و دستار بھی نہیں باقیوہ کشمکش ہے کہ اک تار بھی نہیں باقیQateel Shifai (1919–2001)
- کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیںنہ ہو بلا سے خریدار آؤ سچ بولیںQateel Shifai (1919–2001)
- کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرحوہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرحQateel Shifai (1919–2001)
- ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرحپھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہناQateel Shifai (1919–2001)
- سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانےسب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانےKaifi Azmi (1919–2002)
- کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیاستارے زیر قدم رات آئے ہیں کیا کیاKaifi Azmi (1919–2002)
- ملے نہ پھول تو کانٹوں ث دوستی کر لیاسی طرح سے بسر ہم نے زندگی کر لیKaifi Azmi (1919–2002)
- میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمین نیا آسماں نہیں ملتاKaifi Azmi (1919–2002)
- عزیز ماں مری ہنس مکھ مری بہادر ماںتمام جوہر فطرت جگا دیے تو نےKaifi Azmi (1919–2002)
- بس اک جھجک ہے یہی حال دل سنانے میںکہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میںKaifi Azmi (1919–2002)
- ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانےکہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دل کے ساتھ پیمانےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- گلوں سے بھی نہ ہوا جو مرا پتا دیتےصبا اڑاتی پھری خاک آشیانے کیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- یہ کیف کیف محبت ہے کوئی کیا جانےچھلک رہے ہیں نگاہوں میں دل کے پیمانےHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- میں اس مقام پہ ہوں جس کو لا مکاں کہئےزمیں نہ کہئے اسے اور نہ آسماں کہئےQaisar Usmani (1919–2000)
- محبتیں تو ہوئیں اور تم سے پہلے بھیمگر جو تم سے ہوئی یاد کرتے رہتے ہیںYawar Abbas (b. 1920)
- بہت گھٹن ہے کوئی صورت بیاں نکلےاگر صدا نہ اٹھے کم سے کم فغاں نکلےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تری تڑپ سے نہ تڑپا تھا میرا دل لیکنترے سکون سے بے چین ہو گیا ہوں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہےکہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہDarshan Singh (1921–1989)
- فسانۂ غم دل اب نہیں سنے جاتےشب فراق میں تارے نہیں گنے جاتےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- مرے لیے شب مہتاب اک قیامت ہےتم آؤ چاند ستاروں میں دل نہیں لگتاRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- بنا کے اپنے سفینے کا ناخدا مجھ کوکسی نے کر دیا طوفاں سے آشنا مجھ کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- بڑے ادب سے غرور ستمگراں بولاجب انقلاب کے لہجے میں بے زباں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
- ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پرستوں کےابھی میں بزم میں آیا ابھی کہاں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
- سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھومری انائے خفی کو سوال ہی سمجھوLais Quraishi (b. 1922)
- ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیامنافقوں سے نبھائیں رفاقتیں کیا کیاLais Quraishi (b. 1922)
- کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتینگاہ جلوۂ ارزاں کا رخ نہیں کرتیLais Quraishi (b. 1922)