Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. غنودگی سی رہی طاری عمر بھر ہم پریہ آرزو ہی رہی تھوڑی دیر سو لیتےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  2. نہ زہر خندہ لبوں پر، نہ آنکھ میں آنسونہ زخم ہائے دروں کو ہے جستجوئے مآلAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  3. وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دےبسوں کے شور میں ریلوں کی گڑگڑاہٹ میںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  4. چمن میں گزری کہ صحرا کے درمیاں گزریتمہاری یاد سے خالی مگر کہاں گزریTahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)
  5. جو لوگ دشمن جاں تھے وہی سہارے تھےمنافعے تھے محبت میں نے خسارے تھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  6. عجب سرور ملا ہے مجھے دعا کر کےکہ مسکرایا خدا بھی ستارہ وا کر کےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  7. مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤںندیمؔ کاش یہی ایک کام کر جاؤںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  8. وہ کوئی اور نہ تھا چند خشک پتے تھےشجر سے ٹوٹ کے جو فصل گل پہ روئے تھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  9. بہت شدید تشنج میں مبتلا لوگویہاں سے دور محبت کا ایک قریہ ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  10. چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانےخمیدہ ہل کی یہ الھڑ جوان نور نظرAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  11. شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرامجھے تلاش کروAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  12. مجھے تو مژدۂ کیفیت دوامی دےمرے خدا مجھے اعزاز ناتمامی دےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  13. فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نےجب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  14. بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگہمیں تھا زعم بہار آفریدہ ہیں ہم لوگRaaz Muradabadi (1916–1982)
  15. ترے خیال کی جنت میں کھو گیا ہوں میںاب اپنے آپ کو رہ رہ کے ڈھونڈھتا ہوں میںIbraheem Khaleel (1916–1992)
  16. یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیںہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیںKaif Bhopali (1917–1991)
  17. وہ خاک بوئے تھے حالات نے شرر جس میںاب اس میں پھول تمنا کے کھلنے والے ہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  18. میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤںمزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤںIbraheem Hosh (1918–1988)
  19. جو چپ لگاؤں تو صحرا کی خامشی جاگےجو مسکراؤں تو آزردگی بھی شرمائےIbraheem Hosh (1918–1988)
  20. تمام تر اسی خانہ خراب جیسا ہےمرے لہو کا نشہ بھی شراب جیسا ہےQateel Shifai (1919–2001)
  21. حدود جلوۂ کون و مکاں میں رہتے ہیںنہ جانے اہل نظر کس جہاں میں رہتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
  22. خیال جبہ و دستار بھی نہیں باقیوہ کشمکش ہے کہ اک تار بھی نہیں باقیQateel Shifai (1919–2001)
  23. کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیںنہ ہو بلا سے خریدار آؤ سچ بولیںQateel Shifai (1919–2001)
  24. کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرحوہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرحQateel Shifai (1919–2001)
  25. ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرحپھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہناQateel Shifai (1919–2001)
  26. سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانےسب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانےKaifi Azmi (1919–2002)
  27. کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیاستارے زیر قدم رات آئے ہیں کیا کیاKaifi Azmi (1919–2002)
  28. ملے نہ پھول تو کانٹوں ث دوستی کر لیاسی طرح سے بسر ہم نے زندگی کر لیKaifi Azmi (1919–2002)
  29. میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمین نیا آسماں نہیں ملتاKaifi Azmi (1919–2002)
  30. عزیز ماں مری ہنس مکھ مری بہادر ماںتمام جوہر فطرت جگا دیے تو نےKaifi Azmi (1919–2002)
  31. بس اک جھجک ہے یہی حال دل سنانے میںکہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میںKaifi Azmi (1919–2002)
  32. ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  33. نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانےکہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دل کے ساتھ پیمانےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  34. گلوں سے بھی نہ ہوا جو مرا پتا دیتےصبا اڑاتی پھری خاک آشیانے کیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  35. یہ کیف کیف محبت ہے کوئی کیا جانےچھلک رہے ہیں نگاہوں میں دل کے پیمانےHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
  36. میں اس مقام پہ ہوں جس کو لا مکاں کہئےزمیں نہ کہئے اسے اور نہ آسماں کہئےQaisar Usmani (1919–2000)
  37. محبتیں تو ہوئیں اور تم سے پہلے بھیمگر جو تم سے ہوئی یاد کرتے رہتے ہیںYawar Abbas (b. 1920)
  38. بہت گھٹن ہے کوئی صورت بیاں نکلےاگر صدا نہ اٹھے کم سے کم فغاں نکلےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  39. تری تڑپ سے نہ تڑپا تھا میرا دل لیکنترے سکون سے بے چین ہو گیا ہوں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  40. تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تمSahir Ludhianvi (1921–1980)
  41. کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہےکہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  42. ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہDarshan Singh (1921–1989)
  43. فسانۂ غم دل اب نہیں سنے جاتےشب فراق میں تارے نہیں گنے جاتےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  44. مرے لیے شب مہتاب اک قیامت ہےتم آؤ چاند ستاروں میں دل نہیں لگتاRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  45. بنا کے اپنے سفینے کا ناخدا مجھ کوکسی نے کر دیا طوفاں سے آشنا مجھ کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  46. بڑے ادب سے غرور ستمگراں بولاجب انقلاب کے لہجے میں بے زباں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
  47. ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پرستوں کےابھی میں بزم میں آیا ابھی کہاں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
  48. سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھومری انائے خفی کو سوال ہی سمجھوLais Quraishi (b. 1922)
  49. ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیامنافقوں سے نبھائیں رفاقتیں کیا کیاLais Quraishi (b. 1922)
  50. کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتینگاہ جلوۂ ارزاں کا رخ نہیں کرتیLais Quraishi (b. 1922)