Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- نہ کوئی نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرابس اپنی آب و ہوا ہی پہ ہے گزارہ مراSaleem Kausar
- وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہواانہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہواSaleem Kausar
- یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںوہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیںSaleem Kausar
- بہت دنوں میں کہیں ہجر ماہ و سال کے بعدرکا ہوا ہے زمانہ ترے وصال کے بعدSaleem Kausar
- مرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیںزمیں بنی ہی نہیں آسماں بنا ہی نہیںPirzada Qasim
- ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیںوہ درد دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیںPirzada Qasim
- تمہیں جفا سے نہ یوں باز آنا چاہیئے تھاابھی کچھ اور مرا دل دکھانا چاہیئے تھاPirzada Qasim
- یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لبپکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لبAhmad Mushtaq
- بہت اداس ہو تم اور میں بھی بیٹھا ہوںگئے دنوں کی کمر سے کمر لگائے ہوئےAhmad Mushtaq
- وہاں سلام کو آتی ہے ننگے پاؤں بہارکھلے تھے پھول جہاں تیرے مسکرانے سےAhmad Mushtaq
- لیا ہے عشق نے کیا انتخاب کر کے مجھےچنا جو بزم میں جام شراب کر کے مجھےجمیلہ خدا بخش
- ہجوم رنج و الم ہے یہ نیم جاں کے لیےجفا وہ کرتے ہیں عاشق پہ امتحاں کے لیےجمیلہ خدا بخش
- گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹخزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹHabeeb Moosavi
- خدا کرے کہیں مے خانہ کی طرف نہ مڑےوہ محتسب کی سواری فریب راہ رکیHabeeb Moosavi
- کوئی بھی سر میں نہیں ہے منیرؔ کیا کیجےیہ زندگی کا ترانہ ریاض مانگتا ہےBadr Muneer
- یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیںمگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیںAitbar Sajid
- خفیف لب پہ تبسم رکا رکا سا لگےکہ کوئی غنچۂ نو رس کھلا کھلا سا لگےFaheem Jogapuri
- دعائیں مانگ رہے ہیں کئی خیال ابھیخدا کے گھر سے فرشتوں کو مت نکال ابھیFaheem Jogapuri
- فلک پہ ہنسنے لگے چاند تارے شام کے بعدہمیں اداس ہیں دریا کنارے شام کے بعدFaheem Jogapuri
- نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میرییہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھFaheem Jogapuri
- صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئےصدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئےWaliullah Muhib
- بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہےتری نگاہ کی ناوک فگن پناہ بھی ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میںنگاہ چار ہو کیوں کر کہ شرمسار ہوں میںمرزا آسمان جاہ انجم
- سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئیتمام رات ہوئی درد میں کمی نہ ہوئیثاقب لکھنوی
- میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئےوگر نہ موت تو دنیا میں ہے سبھی کے لئےثاقب لکھنوی
- الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیںتأمل اس میں اگر واں نہیں تو یاں بھی نہیںآغا حجو شرف
- جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوازمانے بھر کا یرش مجھ پہ چار سو سے ہواآغا حجو شرف
- تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلےکفن بغل میں لیا منہ پہ خاک مل کے چلےآغا حجو شرف
- یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہےمیں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہےTahzeeb Hafi
- یہ کس نے باغ سے اس شخص کو بلا لیا ہےپرند اڑ گئے پیڑوں نے منہ بنا لیا ہےTahzeeb Hafi
- مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہونہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہوبخش ناسخ
- ہماری کیف سزاوار احتساب نہیںخیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیںبخش ناسخ
- عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوانپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہواحسرت عظیم آبادی
- کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیابڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیاKhumar Barabankavi
- اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھےوہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھےKhumar Barabankavi
- مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہےجبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکےKhumar Barabankavi
- تو بے نقاب ہے اے مہ یہ ہیں شراب کے دنکہ ماہتاب کی راتیں ہیں آفتاب کے دنعبدالرحمان احسان دہلوی
- ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تریپڑی ہے چار طرف اک تراہ تراہ تریعبدالرحمان احسان دہلوی
- وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہواکسی نے کیا نہ کیا اور ہم پہ کیا نہ ہواصفی اورنگ آبادی
- کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشقکہ لا مکاں ہی کی چوکھٹ ہے آستانۂ عشقاحمد حسین مائل
- تمہارے حسن کے جلوے بہم نہیں ہیں میاںنہیں ہیں اب وہ تمہارے کرم نہیں ہیں میاںIdris Azad
- چمن کی سیر بھی کافی رہی انا کے لیےصبا نے پھول کے بوسے مجھے دکھا کے لیےIdris Azad
- زمانہ آنکھ سے اوجھل مکان سامنے ہےچھپی ہوئی ہے حقیقت گمان سامنے ہےIdris Azad
- میں اپنے عشق میں پیہم زوال دیکھتا ہوںجو تیرے چاہنے والوں کا حال دیکھتا ہوںIdris Azad
- میں اپنے آپ سے رہتا ہوں دور عید کے دناک اجنبی سا تکلف نئے لباس میں ہےIdris Azad
- وہ شہر بھر کو فسانے سناتا پھرتا ہےہمارے سامنے سچا بنے تو بات بنےIdris Azad
- میں پا شکستہ کہاں طفل نے سوار کہاںپھر اس کی گرد کہاں اور مرا غبار کہاںکشن کمار وقار
- گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریںجو بات مانو تو منت ہزار بار کریںرند لکھنوی
- وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکےظہور قدرت پروردگار دیکھ چکےرند لکھنوی
- ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیںیہ راز فاش ہے ہاں سے نہیں میں ہاں میں نہیںساحر دہلوی