گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

Habeeb Moosavi

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

خزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ

کشود کار کی کوشش میں دے نہ حرص کو دخل

شکست دیتی ہے فوجوں کو کارزار میں لوٹ

لبھائے سیکڑوں دل ان کے خال عارض نے

مچائے زنگیوں نے وادیٔ تتار میں لوٹ

وہ منتظم ہے رہے جس کی جز و کل پہ نظر

نہ کر سکے کوئی گونگیر کاروبار میں لوٹ

جہاں میں ہوتی ہے احسان کی جزا احسان

ثواب نیکیوں کے دور اختیار میں لوٹ

عبث ہے بوند کا چوکا اگر گھڑے ڈھلکائے

ہمیشہ نقد میں وارا ہے یاں ادھار میں لوٹ

کئے ہیں شیب نے سب جسم کے قویٰ کمزور

شروع ہو گئی ہر سمت اس حصار میں لوٹ

ہجوم یاس میں چھوڑ اے امید کشور دل

ہے قتل عام کا غل شہر میں جوار میں لوٹ

بنے وہ فاتح کونین خوش ہو تو جس سے

زیادہ گنج کواکب سے ہو شمار میں لوٹ

دیار دل میں ہے پھر داغ عشق کا توڑا

جنوں متاع ہوس موسم بہار میں لوٹ

بھری ہے تازہ ہر ایک سر میں شور و شر کی ہوا

عجب نہیں جو مچے باغ روزگار میں لوٹ

حبیبؔ مشق ریاضت سے کھو کے زنگ دوئی

مزے وصال کے ہر دم فراق یار میں لوٹ