Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- شوق اپنا آپ میں اپنی زباں سے کیوں کہوںدل جو کچھ کہتا ہے وہ اس بد گماں سے کیوں کہوںBekhud Dehlvi (1863–1955)
- لطف سے مطلب نہ کچھ میرے ستانے سے غرضشوخیوں سے کام ان کو مسکرانے سے غرضBekhud Dehlvi (1863–1955)
- بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گاتیرے ہوتے اس صفت کا دوسرا ہو جائے گاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئےوصل کا مژدہ سنایا اور سنا کر رہ گئےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- جب رہا ہو جاؤں گا میں رنج و غم کے دام سےتب کہوں گا اب گزرتی ہے بڑے آرام سےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کردور سے باتیں سنا کر دور کی باتیں نہ کرMuztar Khairabadi (1865–1927)
- سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیںیار کچھ یوں ہی سے ہیں غم خوار کچھ یوں ہی سے ہیںMuztar Khairabadi (1865–1927)
- کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھااس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھاMuztar Khairabadi (1865–1927)
- وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھےمرتے مرتے دے دیا انگور کا پانی مجھےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ہم وفا کرتے ہیں ہم پر جور کوئی کیوں کرےجب ہے بے غوری تو یہ بھی غور کوئی کیوں کرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئیہم کو کیا اے مہ جبیں گر چاند پیشانی ہوئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- کس قدر تھا گرم نالہ بلبل ناشاد کاآگ پھولوں میں لگی گھر جل گیا صیاد کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- کھو کے دل میرا تمہیں نا حق پشیمانی ہوئیتم سے نادانی ہوئی یا مجھ سے نادانی ہوئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعدبن گئی تلوار ان کے ہاتھ میں آنے کے بعدJaleel Manikpuri (1866–1946)
- وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہاتم گلے سے کیا ملے سارا گلہ جاتا رہاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- حسن و الفت میں خدا نے ربط پیدا کر دیادرد دل مجھ کو دیا تم کو مسیحا کر دیاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- حسن کی رنگینیاں کیا جلوہ ساماں ہو گئیںدل کی آنکھیں سر بسر ایمن بداماں ہو گئیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیںسچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئےمرد میداں جو نہ ہو میداں میں آئے کس لئےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئیشہر بھر میں ہے اداسی ہر طرف چھائی ہوئیParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہمایک ساغر کو بھرو تم ایک پیمانے کو ہمParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہاکن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھاSaail Dehlvi (1867–1945)
- اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہےہم ادھر مجبور ہیں اور وہ ادھر مجبور ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہواک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرفHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیںچاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
- دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھاان کو بزم ناز تھی اور مجھ کو خلوت خانہ تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- انقلاب ہندZafar Ali Khan (1873–1956)
- حقائقZafar Ali Khan (1873–1956)
- فانوس ہند کا شعلہZafar Ali Khan (1873–1956)
- حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیاکیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیاHasrat Mohani (1875–1951)
- عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھےعشق جب دینے لگا تعلیم نادانی مجھےHasrat Mohani (1875–1951)
- وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیںآرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزےدل ابھی بھولا نہیں، آغازِ الفت کے مزےHasrat Mohani (1875–1951)
- بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگااب تو اظہارِ محبت برملا ہونے لگاHasrat Mohani (1875–1951)
- آپ کو آتا رہا میرے ستانے کا خیالصلح سے اچھی رہی مجھ کو لڑائی آپ کیHasrat Mohani (1875–1951)
- ہمالہAllama Iqbal (1877–1938)
- عہد طفلیAllama Iqbal (1877–1938)
- مرزا غالبAllama Iqbal (1877–1938)
- خفتگان خاک سے استفسارAllama Iqbal (1877–1938)
- صدائے دردAllama Iqbal (1877–1938)
- آفتاب صبحAllama Iqbal (1877–1938)
- گل پژمردہAllama Iqbal (1877–1938)
- سیدکی لوح تربتAllama Iqbal (1877–1938)
- ماہ نوAllama Iqbal (1877–1938)
- شاعرAllama Iqbal (1877–1938)
- رخصت اے بزم جہاںAllama Iqbal (1877–1938)
- طفل شیر خوارAllama Iqbal (1877–1938)
- نا لہ فراقAllama Iqbal (1877–1938)
- چاندAllama Iqbal (1877–1938)
- داغAllama Iqbal (1877–1938)