انقلاب ہند

Zafar Ali Khan (1873–1956)

بارہا دیکھا ہے تو نے آسماں کا انقلاب

کھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستاں کا انقلاب

مغرب و مشرق نظر آنے لگے زیر و زبر

انقلاب ہند ہے سارے جہاں کا انقلاب

کر رہا ہے قصر آزادی کی بنیاد استوار

فطرت طفل و زن و پیر و جواں کا انقلاب

صبر والے چھا رہے ہیں جبر کی اقلیم پر

ہو گیا فرسودہ شمشیر و سناں کا انقلاب