حسن کی رنگینیاں کیا جلوہ ساماں ہو گئیں
Brij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)حسن کی رنگینیاں کیا جلوہ ساماں ہو گئیں
دل کی آنکھیں سر بسر ایمن بداماں ہو گئیں
طور سامانی عیاں فطرت کی ہر ذرے سے ہے
تیری آنکھیں دیکھ کر ہر گل کو حیراں ہو گئیں
جلوہ بے پردہ تھا فرط شوق نے ڈالی نقاب
یہ نگاہیں مضطرب ہو کر پریشاں ہو گئیں
جن امیدوں سے بنا تھا خانۂ دل رشک گل
اب وہی اس گھر کی بربادی کا ساماں ہو گئی