Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- آتش عشق بلا آگ لگائے نہ بنےاور ہم اس کو بجھائیں تو بجھائے نہ بنےPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- دل بہلنے کا جہاں میں کوئی ساماں نہ ہوااپنا ہمدرد کبھی عالم امکاں نہ ہواPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- نو گرفتار محبت کبھی آزاد نہ ہوقید میں قید رہے قید کی میعاد نہ ہوPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- جب بھی ٹوٹا مرے خوابوں کا حسیں تاج محلمیں نے گھبرا کے کہی میرؔ کے لہجے میں غزلTahir Faraz
- درد خاموش رہا ٹوٹتی آواز رہیمیری ہر شام تری یاد کی ہم راز رہیTahir Faraz
- میں نہ کہتا تھا کہ شہروں میں نہ جا یار مرےسوندھی مٹی ہی میں ہوتی ہے وفا یار مرےTahir Faraz
- صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی راتدے رہا ہے مرا دل کل کی خبر آج کی راتمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیادرد دیکھا نہ گیا تم کو دکھایا نہ گیاعلی منظور حیدرآبادی
- ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہادیدۂ شوق تماشا ہے تماشا نہ رہامنیر بھوپالی
- پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہےآئنہ بھی ہے مرا دل تری تصویر بھی ہےناطق لکھنوی
- تجھ کو آتی ہے دلاسے کی نہیں بات کوئیکس طرح تجھ سے رکھے جان ملاقات کوئیسعادت یار خان رنگین
- ٹیس پیڑو میں اٹھی اوہی مری جان گئیمت ستا مجھ کو دوگانا ترے قربان گئیسعادت یار خان رنگین
- گرم ان روزوں میں کچھ عشق کا بازار نہیںبیچتا دل کو ہوں میں کوئی خریدار نہیںسعادت یار خان رنگین
- یوں ہے اس دل کو دوگانہ کی نشانی کی ہوسریت میں مچھلی کو جوں ہوتی ہے پانی کی ہوسسعادت یار خان رنگین
- گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیںکیا ہی نادانیاں نادان سے ہم دیکھتے ہیںواجد علی شاہ
- پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبثقتل کرنے سے مرے ہے تجھے انکار عبثبیاں احسن اللہ خان
- زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھےتیری آنکھوں نے کیا آپ سا بیمار مجھےبیاں احسن اللہ خان
- خبریوسف ظفر
- بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیںان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیںمرزارضا برق
- خواب چنتی ہوئی آنکھیں ہیں پرندوں کی طرحاور یہ جسم کہ جیسے کوئی بے برگ شجرFaisal Hashmi
- گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمکپر مرے یار کے چہرے کا سا ڈھنگ اور نمکغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہیہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہیمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگآئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- سیم و زر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میںکسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میںNadiya ambar lodhi
- ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئےقبر عاشق کے نشاں بھی تو مٹائے نہ گئےعاشق اکبرآبادی
- کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوافکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہواعاشق اکبرآبادی
- ہنسنے میں رونے کی عادت کبھی ایسی تو نہ تھیتیری شوخی غم فرقت کبھی ایسی تو نہ تھیEjaz Obaid
- ایک ہی نغمہ کبھی سوز کبھی ساز میں ہےایسا اعجاز فقط وقت کی آواز میں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
- عشق میں سوز نہ ہو حسن میں تسخیر نہ ہوپھر تو تخریب ہی دنیا میں ہو تعمیر نہ ہوIftikhar Ahamad Siddiqi
- کوئی تکلیف ہماری ہے نہ غم آپ کے ہیںآج سے آپ ہمارے ہیں نہ ہم آپ کے ہیںIftikhar Ahamad Siddiqi
- مری خاطر کوئی نامہ کوئی پیغام تو ہودل مضطر کو کسی طور سے آرام تو ہوHabab Hashmi
- پھول اللہ نے بنائے ہیں مہکنے کے لیےاور بلبل کو بنایا ہے چہکنے کے لیےعیش دہلوی
- دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیںدشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیںاشرف علی فغاں
- وقت کا سانس بھی طوفان کا ٹھہراؤ لگےاس کڑی رت میں کہاں ٹوٹی ہوئی ناؤ لگےZafar Ghauri
- کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھیمیرے ہاتھوں میں تری زلف بھی زنجیر نہ تھیAah Sambhali
- کبھی دیوار لرزتی ہے تو در چیختا ہےجانے کیا بات ہے دن رات یہ گھر چیختا ہےBadr-e-Alam Khan Azmi
- ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھرکھ دیا باندھ کے چھپر میں اسے تیر کے ساتھبوم میرٹھی
- کر سکی کچھ نہ تری زلف سیاہ فام مراکفر کے سایہ میں بڑھتا رہا اسلام مرابوم میرٹھی
- یہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیںہم کو وہ شخص بلاتا ہے تو ہم بولتے ہیںEhsanul Haq Mazhar
- اس محبت سے مری سمت کوئی دیکھتا ہےرک بھی جاتا ہوں کبھی دشت کو جاتا ہوا میںEhsanul Haq Mazhar
- فی زمانہ یہ مروت بھی بہت ہے مظہرؔان کو جانا تھا مگر دوست بہانے سے گئےEhsanul Haq Mazhar
- کوئی طوفاں تو نہیں کوئی تلاطم تو نہیںزندگی نام ہے جس کا وہ کہیں تم تو نہیںEhsas Muradabadi
- خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہیہوس زیست ہو اس درجہ تو مرنا ہے یہیمحمد علی جوہر
- خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہیاس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہیمحمد علی جوہر
- جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیںتجھ میں او نالۂ جاں سوز اثر کچھ بھی نہیںمنشی شیو پرشاد وہبی
- عشق صادق نے دکھایا یہ اثر آپ سے آپہو گئی ان کو مرے دل کی خبر آپ سے آپمنشی شیو پرشاد وہبی
- غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہوجو گرفتار محبت ہے وہ آزاد نہ ہومنشی ٹھاکر پرساد طالب
- یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہواکبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوامنتظر لکھنوی
- کون سا عشق بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوادرد فرقت نہ ہوا غم نہ ہوا کیا نہ ہوارسا رامپوری
- لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیںمے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیںامانت لکھنوی